حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 27
27 روح القدس کی تائید اور چمک ہمیشہ نبی کے شامل حال رہتی ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَنِّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أُمُنِيَّتِهِ جِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِى الشَّيْطنُ ثُمَّ يُحْكِمَ اللهُ الله ط وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ( سورة الحج : 53) یہ بات خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے برخلاف ہے کہ وہ شیاطین کو ان کے مواضع مناسبہ سے معطل کر دیوے۔اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمَ اللَّهُ ايَتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ یعنی ہم نے کوئی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ اس کی یہ حالت نہ ہو کہ جب وہ کوئی تمنا کرے یعنی اپنے نفس سے کوئی بات چاہے تو شیطان اس کی خواہش میں کچھ نہ ملادے یعنی جب کوئی رسول یا کوئی نبی اپنے نفس کے جوش سے کسی بات کو چاہتا ہے تو شیطان اس میں بھی دخل دیتا ہے تب وحی متلو جو شوکت اور ہیبت اور روشنی تام رکھتی ہے اس دخل کو اٹھا دیتی ہے اور منشاء الہی کو مصفا کر کے دکھلا دیتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں اور جو کچھ خواطر اس کے نفس میں پیدا ہوتی ہیں در حقیقت وہ تمام وہی ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم اس پر شاہد ہے وما ینطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحی 0 (النجم : 54) لیکن قرآن کی وحی دوسری وحی سے جو صرف معانی منجانب اللہ ہوتی ہیں تمیز کلی رکھتی ہے اور نبی کے اپنے تمام اقوال وحی غیر متلو میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ روح القدس کی برکت اور چمک ہمیشہ نبی کے شامل حال رہتی ہے اور ہر یک بات اس کی برکت سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ برکت روح القدس سے اس کلام میں رکھی جاتی ہے لہذا ہر یک بات نبی کی جو نبی کی توجہ تام سے اور اس کے خیال کی پوری مصروفیت سے اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ بلاشبہ وحی ہوتی ہے۔( آئینہ کمالات اسلام - رخ جلد 5 صفحہ 353-352) جو علما عارف باللہ اور موید من اللہ ہوتے ہیں وہ بتائید روح القدس جملہ علوم کا استخراج قرآن مجید سے کر سکتے ہیں قال الله تعالى لا رطب و لا يا بس الا فی کتاب مبین (الانعام:60) وايضا قال الله تعالیٰ والذين جاهدو افينا لنهدينهم سبلنا (العنكبوت: 70) و ايضا قال الله تعالى وعلمناه من لدنا علما (الكهف: 66)۔اور علماء ظاہر کو یہ بات نصیب نہیں ہو سکتی ان کو البتہ اشد احتیاج طرف علوم رسمیہ اور فنون درسیہ کی ہوتی ہے۔الحق مباحثہ دہلی۔رخ جلد 4 صفحہ 294) تفسیر نویسی اس بات کا ذکر آیا کہ آج کل لوگ بغیر بچے علم اور واقفیت کے تفسیریں لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔اس پر فرمایا: تفسیر قرآن میں دخل دینا بہت نازک امر ہے۔مبارک اور سچا دخل اس کا ہے جو روح القدس سے مدد لے کر داخل دے ورنہ علوم مروجہ کا لکھناد نیاداروں کی چالاکیاں ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 505)