حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 523
523 تمام برکات اور یقین کے حصول کا ذریعہ خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے اور انسان کی یہ زندگی جو شکوک اور شبہات سے بھری ہوئی ہے بجز مکالمات الہیہ کے سرچشمہ صافیہ کے یقین تک ہرگز نہیں پہنچ سکتی مگر خدا تعالیٰ کا وہ مکالمہ یقین تک پہنچاتا ہے جو یقینی اور قطعی ہو جس پر ایک مہم قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ وہ اسی رنگ کا مکالمہ ہے جس رنگ کا مکالمہ آدم سے ہوا اور پھر شیث سے ہوا اور پھر نوع سے ہوا اور پھر ابراہیم سے اور پھر اسحاق سے اور پھر اسمعیل سے اور پھر یعقوب سے ہوا اور پھر یوسف سے اور پھر چار سو برس کے بعد موسیٰ سے اور پھر یشوع بن نون سے ہوا۔۔۔۔اور سب سے اتم اور اکمل طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو الیکن اگر کوئی کلام یقین کے مرتبہ سے کم تر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے نہ ربانی۔( نزول مسیح -ر-خ- جلد 18 صفحہ 486) حضرت اقدس کا الہام اور وحی یقینی ہے ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اس قدر یقین اور علی وجہ البصیرت یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو قسم دے دو۔بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو معا کافر ہو جاؤں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 400) مکہ معظمہ میں داخل ہو کر اگر خدا تعالیٰ کی قسم دی جاوے تو میں کہوں گا کہ میرے الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔جس شخص نے خیالی طور پر دعویٰ کیا ہو وہ ہرگز جرات نہیں کر سکتا۔کبھی وہ شخص جو کامل یقین رکھتا ہو اور وہ جو مشکوک ہے برابر ہو سکتے ہیں۔آنچه من بشنوم از وحی خدا بخدا پاک دانمش ز جو کچھ خدا کی وحی سے میں سنتا ہوں خدا کی قسم میں اسے غلطی سے پاک سمجھتا ہوں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 20) خطا ہمچو قرآن منزه اش دانم از خطابا ہمیں است ایما نم بخدا میں اسے قرآن کی طرح غلطیوں سے پاک جانتا ہوں اور یہی میرا ایمان ہے۔هست من خدا را بدو شناخته ام دل بدین آتشش گداخته ام میں نے خدا کو اسی کے ذریعہ سے پہچانا ہے خدا کی اس آگ سے ہی میں نے اپنے دل کو گدا ز کیا ہے۔این کلام مجید از دهان خدائے پاک و وحید خدا کی قسم یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور وہ خدائے قدوس اور واحد کے منہ سے نکلا ہوا ہے۔آنچه بر من عیاں شد از دادار آفتابی است بادو صد انوار جو کچھ مجھ پر خدا کی طرف سے ظاہر ہوا ہے اوہ ایک آفتاب ہے جو سینکڑوں انوار اپنے ساتھ رکھتا ہے۔