حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 513 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 513

513 الہام قابل تعبیر ہوتا ہے ان الله تعالى قد يوحى الى انبيائه ورسله في حلل المجازات والاستعارات والتمثيلات و نظائره كثيرة في وحى خير الرسل صلى الله عليه وسلم (حمامته البشرى۔ر۔خ۔جلد 7 صفحه 191-190 حاشیه) ترجمه از مرتب:۔اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور مرسلوں کو کبھی کبھی مجاز استعار عداور تمثیل کے رنگ میں وحی کرتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی میں اس کی بہت سی نظائر موجود ہیں۔الہام اور اجتہادی غلطی کبھی نبی کی وحی خبر واحد کی طرح ہوتی ہے اور مع ذالک مجمل ہوتی ہے اور کبھی وحی ایک امر میں کثرت سے اور واضح ہوتی ہے۔پس اگر مجمل وحی میں اجتہاد کے رنگ میں کوئی غلطی بھی ہو جائے تو بینات محکمات کو اس سے کچھ صدمہ نہیں پہنچتا۔پس میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کبھی میری وحی بھی خبر واحد کی طرح ہوا اور مجمل ہو اور اس کے سمجھنے میں اجتہادی رنگ کی غلطی ہو۔اس بات میں تمام انبیاء شریک ہیں۔(لیکچر سیالکوٹ۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 245) الہام پانے کی خواہش غلط ہے إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ أُولئِكَ هُمُ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ (البيِّنة: 8) انسان کو چاہئے کہ اپنا فرض ادا کرے اور اعمال صالحہ میں ترقی کرے۔الہام کرنا اور رویا دکھانا یہ تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے اس پر ناز نہیں کرنا چاہیئے۔اپنے اعمال کو درست کرنا چاہیئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ أُولئِكَ هُمُ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ یہ نہیں کہا کہ جن کو کشوف اور الہامات ہوتے ہیں وہ خیر البریۃ ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 367) وحی صرف مسلمان کو ہوسکتی ہے وحی ایسی شئی ہے جو کہ اس سے بدر جہا بڑھ کر صاف ہے اور اس کے حاصل ہونے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے۔کشف تو ایک ہندو کو بھی ہو سکتا ہے بلکہ ایک دہریہ بھی جو خدا تعالیٰ کو نہ مانتا ہو وہ بھی اس میں کچھ نہ کچھ کمال حاصل کر لیتا ہے لیکن وحی سوائے مسلمان کے دوسرے کو نہیں ہو سکتی یہ اسی امت کا حصہ ہے کیونکہ کشف تو ایک فطرتی حصہ انسان کا ہے اور ریاضت سے یہ حاصل ہو سکتا ہے خواہ کوئی کرے۔کیونکہ فطرتی امر جیسے جیسے کوئی اس میں مشق اور محنت کرے گا ویسے ویسے اس پر اس کی حالتیں طاری ہوں گی اور ہر ایک نیک و بد کورڈیا کا ہونا اس امر پر دلیل ہے۔دیکھا ہوگا کہ کچی خوا ہیں بعض فاسق فاجر لوگوں کو بھی آ جاتی ہیں۔پس جیسے ان کو کچی خوا میں آتی ہیں ویسے ہی زیادہ مشق سے کشف بھی ان کو ہو سکتے ہیں تھی کہ حیوان بھی صاحب کشف ہو سکتا ہے لیکن الہام یعنی وحی الہی ایسی شئے ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ سے پوری صلح نہ ہو اور اس کی اطاعت کے لئے اس نے گردن نہ رکھ دی ہو تب تک وہ کسی کو