حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 463 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 463

463 اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔(الحديد: 18) اگر آسانی پانی نازل ہونا چھوڑ دے تو سب کنوئیں خشک ہو جائیں۔اسی طرح پر ہم یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نور قلب ہر انسان کو دیا ہے اور اس کے دماغ میں عقل رکھی ہے جس سے وہ بُرے بھلے میں تمیز کرنے کے قابل ہوتا ہے لیکن اگر نبوت کا نور آسمان سے نازل نہ ہو اور یہ سلسلہ بند ہو جاوے تو دماغی عقلوں کا سلسلہ جاتا رہے اور نور قلب پر تاریکی پیدا ہو جاوے اور وہ بالکل کام دینے کے قابل نہ رہے کیونکہ یہ سلسلہ اسی نور نبوت سے روشنی پاتا ہے۔جیسے بارش ہونے پر زمین کی روئید گیاں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں اور ہر تخم پیدا ہونے لگتا ہے اسی طرح پر نور نبوت کے نزول پر دماغی اور ذہنی عقلوں میں ایک صفائی اور نور فراست میں ایک روشنی پیدا ہوتی ہے۔اگر چہ یہ علی قدر المراتب ہوئی ہے اور استعداد کے موافق ہر شخص فائدہ اٹھاتا ہے خواہ وہ اس امر کومحسوس کرے یا نہ کرے لیکن یہ سب کچھ ہوتا اسی نور نبوت کے طفیل ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 713) كَتَبَ اللَّهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ۔(المجادله:22) خدا مقرر کر چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوتے رہیں گے۔یہ آیت بھی ہر ایک زمانہ میں دائر اور عادت مستمرہ الہیہ کا بیان کر رہی ہے۔یہ نہیں کہ آئندہ رسول پیدا ہوں گے اور خدا انہیں غالب کرے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی زمانہ ہو حال یا استقبال یا گذشتہ سنت اللہ یہی ہے کہ رسول آخر کار غالب ہی ہو جاتے ہیں۔الحق مباحثہ دہلی - ر - خ - جلد 4 صفحہ 163 ) اَلْيَوْمَ اَكُمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔۔۔۔الآخر (المائده :4) قرآن کریم میں یہ آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمُ ہے اسی طرح توریت میں بھی آیات ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ نبی اسرائیل کو ایک کامل اور جلالی کتاب دیگئی ہے جس کا نام تو ریت ہے چنانچہ قرآن کریم میں بھی تو ریت کی یہی تعریف ہے لیکن باوجود اس کے بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب انکے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا انکے موجودہ زمانہ میں جولوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر انکو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں۔اور جن کے دلوں میں کچھ شکوک اور دہریت اور بے ایمانی ہوگئی ہو انکو پھر زندہ ایمان بخشیں چنانچہ اللہ جلشانہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ لَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُل (البقرة : 88) یعنی موسیٰ کو ہم نے توریت دی اور پھر اس کتاب کے بعد ہم نے کئی پیغمبر بھیجے تا توریت کی تائید اور تصدیق کریں۔اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تترا (المومنون:45) یعنی پھر پیچھے سے ہم نے اپنے رسول پے در پے بھیجے۔پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اسکی تائید اور تصدیق کیلئے ضرور انبیاء کو بھیجا کرتا ہے چنانچہ توریت کی تائید کیلئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا۔جن کے آنے پر اب تک بائیل شہادت دے رہی ہے۔شہادت القران - ر- خ - جلد 6 صفحہ 341-340)