حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 451
451 لوگ مخلوق کو دھوکہ دیتے ہیں اور غلطیوں میں ڈالتے ہیں کہ ہم نے کوئی نیا کلمہ یا نماز تجویز کی ہے۔ایسے افتراؤں کا میں کیا جواب دوں۔اسی قسم کے افتراؤں سے وہ ایک عاجز انسان مسیح علیہ السلام کو تین خدا بنا بیٹھے۔دیکھو۔ہم مسلمان ہیں اور امت محمدی ہیں اور ہمارے نزدیک نئی نماز بنانی یا قبلہ سے روگردانی کفر ہے۔کل احکام پیغمبری کو ہم مانتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے حکم کو ٹالنا بھی بدذاتی ہے۔اور ہمارا دعویٰ قال اللہ اور قال الرسول کے ماتحت ہے۔اتباع نبوی سے الگ ہو کر ہم نے کوئی کلمہ یا نماز یا حج یا ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد نہیں بنائی۔ہمارا کام یہ ہے کہ اس دین کی خدمت کریں اور اس کو کل مذاہب پر غالب کر کے دکھا دیں۔قرآن شریف کی اور احادیث کی جو پیغمبر خدا سے ثابت ہیں۔اتباع کریں ضعیف سے ضعیف حدیث بھی بشر طیکہ وہ قرآن شریف کے مخالف نہ ہو ہم واجب العمل سمجھتے ہیں اور بخاری اور مسلم کو بعد کتاب اللہ اصح الکتب مانتے ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 107) میں نے سنا ہے کہ بعض تم میں سے حدیث کو بکلی نہیں مانتے۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو سخت غلطی کرتے ہیں۔میں نے یہ تعلیم نہیں دی کہ ایسا کرو۔بلکہ میرا مذہب یہ ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ جو تمہاری ہدایت کے لئے خدا نے تمہیں دی ہیں۔سب سے اول قرآن ہے۔دوسرا ذریعہ ہدایت کا سنت ہے یعنی وہ پاک نمو نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل اور عمل سے دکھلائے مثلاً نماز پڑھ کے دکھلائی کہ یوں نماز چاہیئے۔اور روزہ رکھ کر دکھلایا کہ یوں روزہ چاہیئے۔اس کا نام سنت ہے یعنی روش نبوی جو خدا کے قول کو فعل کے رنگ میں دکھلاتے رہے۔سنت اسی کا نام ہے۔تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے جو آپ کے بعد آپ کے اقوال جمع کئے گئے۔اور حدیث کا رتبہ قرآن اور سنت سے کمتر ہے کیونکہ اکثر حدیثیں ظنی ہیں۔لیکن اگر ساتھ سنت ہو تو وہ اسکو یقینی کر دے گی۔منہ (کشتی نوح۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 26) ہمارا ضرور یہ مذہب ہونا چاہیئے کہ ہم ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول کو قرآن کریم پر عرض کریں تا ہمیں معلوم ہو کہ وہ واقعی طور پر اسی مشکوۃ وحی سے نور حاصل کرنے والے ہیں جس سے قرآن نکلا ہے یا اس کے مخالف ہیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر-خ- جلد 4 صفحہ 22)