حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 338
338 قرآنی حقائق و معارف ضرورت زمانہ کے مطابق نازل ہوتے ہیں وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَ مَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ - (الحجر: 22) دنیا کی تمام چیزوں کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر ضرورت و مقتضائے مصلحت و حکمت ہم ان کو اتارتے ہیں۔اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوا کہ ہر یک چیز جو دنیا میں پائی جاتی ہے وہ آسمان سے ہی اتری ہے اس طرح پر کہ ان چیزوں کے عمل موجبہ اسی خالق حقیقی کی طرف سے ہیں اور نیز اس طرح پر کہ اسی کے الہام اور القاء اور سمجھانے اور عقل اور فہم بخشنے سے ہر یک صنعت ظہور میں آتی ہے لیکن زمانہ کی ضرورت سے زیادہ ظہور میں نہیں آتے اور ہر یک مامور من اللہ کو وسعت معلومات بھی زمانہ کیضرورت کے موافق دی جاتی ہے۔علی ہذا القیاس قرآن کریم کے دقائق و معارف و حقائق بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق ہی کھلتے ہیں۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 451-450) ہر ایک چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر ہم قدر ضرورت سے زیادہ ان کو نازل نہیں کیا کرتے پس یہ حکمت الہیہ کے برخلاف ہے کہ ایک نبی کو امت کی اصلاح کے لئے وہ علوم دئے جائیں جن علوم سے وہ امت مناسبت ہی نہیں رکھتی بلکہ حیوانات میں بھی خدا تعالیٰ کا یہی قانون قدرت پایا جاتا ہے۔(حقیقۃ الوئی۔۔خ۔جلد 22 صفحہ 156-155) اصل حقیقت وحی کی یہ ہے جو نزول وحی کا بغیر کسی موجب کے جو مستدعی نزول وحی ہو ہرگز نہیں ہوتا بلکہ ضرورت کے پیش آجانے کے بعد ہوتا ہے اور جیسی جیسی ضرورتیں پیش آتی ہیں بمطابق ان کے وحی بھی نازل ہوتی ہے کیونکہ وحی کے باب میں یہی عادت اللہ جاری ہے کہ جب تک باعث محرک وحی پیدا نہ ہو لے تب تک وحی نازل نہیں ہوتی اور خود ظاہر بھی ہے جو بغیر موجودگی کسی باعث کے جو تحریک وحی کی کرتا ہو یونہی بلا موجب وحی کا نازل ہو جانا ایک بے فائدہ کام ہے جو خداوند تعالیٰ کی طرف جو حکیم مطلق ہے اور ہر یک کام برعایت حکمت اور مصلحت اور مقتضاء وقت کے کرتا ہے منسوب نہیں ہو سکتا۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 75 حاشیہ نمبر 2)