حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 324
324 إِنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔وَ مَا أَدْرَا لَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ۔تَنَزَّلُ الْمَلِئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ۔سَلَمٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر 2 تا 6 ) اس سورت کا حقیقی مطلب جو ایک بھاری صداقت مشتمل ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔اس قاعدہ کلی کا بیان فرمانا ہے کہ دنیا میں کب اور کس وقت میں کوئی کتاب اور پیغمبر بھیجا جاتا ہے۔سو وہ قاعدہ یہ ہے کہ جب دلوں پر ایک ایسی غلیظ ظلمت طاری ہو جاتی ہے کہ یکبارگی تمام دل رو بد نیا ہو جاتے اور پھر رو بد نیا ہونے کی شامت سے ان کے تمام عقائد و اعمال و افعال و اخلاق و آداب اور نیتوں اور ہمتوں میں اختلال کلی راہ پا جاتا ہے اور محبت الہیہ دلوں سے بکلی اٹھ جاتی ہے اور یہ عام وبا ایسا پھیلتا ہے کہ تمام زمانہ پر رات کی طرح اندھیرا چھا جاتا ہے تو ایسے وقت میں یعنی جب وہ اندھیرا اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے۔رحمتِ الہیہ اس طرف متوجہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو اس اندھیری سے خلاصی بخشے اور جن طریقوں سے ان کی اصلاح قرین مصلحت ہے ان طریقوں کو اپنے کلام میں بیان فرما دے۔سو اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آیت ممدوحہ میں اشارہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کو ایک ایسی رات میں نازل کیا ہے جس میں بندوں کی اصلاح اور بھلائی کے لئے صراط مستقیم کی کیفیت بیان کرنا اور شریعت اور دین کی حدود کو بتلانا از بس ضروری تھا۔( براھین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 637 تا 639)