حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 316
316 قرآن کریم کو تر جمہ اور تفسیر کیسا تھ پڑھنا قرآن شریف کو پڑھو اور خدا سے کبھی نا امید نہ ہو۔مومن خدا سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔یہ کافروں کی عادت میں داخل ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ہمارا خدا علی کل شئ قدیر خدا ہے۔قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھو اور نمازوں کو سنوار سنوار کر پڑھو اور اس کا مطلب بھی سمجھو۔اپنی زبان میں بھی دعائیں کرلو۔قرآن شریف کو ایک معمولی کتاب سمجھ کر نہ پڑھو بلکہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھ کر پڑھو۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 191) قرآن شریف سے اعراض کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک صوری اور ایک معنوی۔صوری یہ کہ کبھی کلام الہی کو پڑھا ہی نہ جاوے جیسے اکثر لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر وہ قرآن شریف کی عبارت تک سے بالکل غافل ہیں اور ایک معنوی کہ تلاوت تو کرتا ہے مگر اس کی برکات و انوار ورحمت الہی پر ایمان نہیں ہوتا۔پس دونو اعراضوں میں سے کوئی اعراض ہو اس سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 519) صرف قرآن کا ترجمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اس کے ساتھ تفسیر نہ ہو مثلاً غير المغضوب عليهم ولا الضاليین کی نسبت کسی کو کیا سمجھ آ سکتا ہے کہ اس سے مراد یہود نصاری ہیں جب تک کہ کھول کر نہ بتلایا جاوے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی۔اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کر کے خدا کا غضب کمایا۔ایسے ہی آخری زمانہ میں اس امت نے بھی مسیح موعود کا انکار کر کے خدا کا غضب کمانا تھا اسی لیے اول ہی ان کو بطور پیشگوئی کے اطلاع دی گئی کہ سعید روحیں اس وقت غضب سے بچ سکیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 449) قرآن کریم کا صرف ترجمہ فرمایا:۔ہم ہر گز فتوی نہیں دیتے کہ قرآن کا صرف ترجمہ پڑھا جاوے۔اس سے قرآن کا اعجاز باطل ہوتا ہے جو شخص یہ کہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ قرآن دنیا میں نہ رہے بلکہ ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو دعائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہیں وہ بھی عربی میں پڑھی جاویں دوسرے جو اپنی حاجات وغیرہ ہیں ماثورہ دعا کے علاوہ وہ صرف اپنی زبان میں مانگی جاویں۔ایک شخص نے کہا کہ حضور حنفی مذہب میں صرف ترجمہ پڑھ لینا کافی سمجھا گیا ہے فرمایا کہ:۔اگر یہ امام اعظم کا مذہب ہے تو پھر ان کی خطا ہے۔( ملفوظات جلد سوم جلد265)