حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 246 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 246

246 أنَّا نَاتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا۔۔۔حضرت اقدس کا ذکر۔۔۔۔۔۔میں بَلْ مَتَّعْنَا هَؤُلَاءِ وَآبَاءَ هُمْ حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ، أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا ط نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ، أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ (الانبياء: 45 ) خلاصہ کلام یہ کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اُس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا اس تکذیب سے کچھ تعلق نہیں۔پھر رفتہ رفتہ ائمۃ الکفر پکڑے جاتے ہیں اور سب سے آخر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اِس آیت میں اشارہ فرماتا ہے آنا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أطْرَافِهَا یعنی ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں۔اس میرے بیان میں اُن بعض نادانوں کے اعتراضات کا جواب آ گیا ہے جو کہتے ہیں کہ تکفیر تو مولویوں نے کی تھی اور غریب آدمی طاعون سے مارے گئے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 166 ) طاعون کے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اکثر غریب مرتے ہیں اور امراء اور ہمارے بڑے بڑے مخالف ابھی تک بچے ہوئے ہیں۔لیکن سنت اللہ یہی ہے کہ ائمۃ الکفر اخیر میں پکڑے جایا کرتے ہیں۔چنانچہ موسیٰ کے وقت جس قدر عذاب پہلے نازل ہوئے ان سب میں فرعون بیچارہا۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی آیا ناتی الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد: 42) یعنی ابتداء عوام سے ہوتا ہے اور پھر خواص پکڑے جاتے ہیں اور بعض کے بچانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے آخر میں تو بہ کرنی ہوتی ہے یا ان کی اولاد میں سے کسی نے اسلام قبول کرنا ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 200-201) قرآنی معجزات اور خوارق کو خود کر کے دکھانے کے اعتبار سے قُلْنَا يَنَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبياء: 70) عرض کیا گیا کہ آریہ حضرت ابراہیم کے آگ میں ڈالے جانے پر اعتراض کرتے ہیں تو ) فرمایا: ان لوگوں کے اعتراض کی اصل جڑ معجزات اور خوارق پر نکتہ چینی کرنا ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے دعویٰ کرتے ہیں اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں مبعوث کیا ہے کہ قرآن کریم میں جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء کے مذکور ہوئے ہیں اُن کو خود دکھا کر قرآن کی حقانیت کا ثبوت دیں۔ہم دعوی کرتے ہیں کہ اگر دنیا کی کوئی قوم ہمیں آگ میں ڈالے یا کسی اور خطرناک عذاب اور مصیبت میں مبتلا کرنا چاہے تو خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق ضرور ہمیں محفوظ رکھے گا۔۔۔۔