حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xxi
xviii اس امر کی وضاحت کے لئے کہ جو عرفان قرآن آپ کو عطا ہوا ہے وہ آپ کے دعاوی کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے ایک نشان اور گواہ کے طور پر نازل ہوا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔ہمچو شاہداں استاده اند علم قرآں علم آں طیب زباں علم غیب از وحی خلاق جہاں این سه علم از نشانها داده اند ترجمہ : - قرآن کا علم اور قرآن کی پاک زبان کا علم اور خدا کی وحی سے غیب کا علم یہ تین علوم مجھے نشان کے طور پر عطا ہر کئے گئے ہیں۔اور یہ تینوں میرے دعاوی کی صداقت کے ثبوت میں گواہ کے طور پر کھڑے ہیں۔یہ وہی بات ہے جس کو حضرت نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے تعلق میں مرکزی نکتہ کے طور پر بیان کیا ہے یعنی یہ کہ سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں جو عرفان قرآن آپ کو عطا ہوا ہے وہ آپ کے دعاوی کی صداقت پر ایک گواہ ہے۔اور قرآن کریم کے طالب علم اس حقیقت سے نا آشنا نہیں۔کہ سورۃ فاتحہ قرآن کریم کے تمام مضامین کا خلاصہ اور سرنامہ ہے۔فرماتے ہیں۔اے دوستو جو پڑھتے ہو ام الکتاب کو اب دیکھو میری آنکھوں سے اس آفتاب کو اس کی قسم کہ جس نے یہ سورۃ اُتاری ہے اس پاک دل پہ جس کی وہ صورت پیاری ہے یہ میرے رب سے میرے لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعوی پہ مہر اللہ ہے میرے صحیح ہونے پہ یہ اک دلیل ہے میرے لئے یہ شاہد رب پھر میرے بعد اوروں کی ہے انتظار کیا تو بہ کرو کہ جینے کا ہے اعتبار کیا آپ مشاہدہ کر لیں اس فرمان میں گواہ کا لفظ بھی آ گیا اور شاہد کا لفظ بھی اور عرفان قرآن کا آپ کے دعاوی کے صدق پر مہر الہ ہونے کا بیان بھی کر دیا گیا۔جلیل ہے حضرت اقدس کا فہم قرآن اور آپ کے دعاوی کے باہم تعلق کی اہمیت کو آپ ایک اور مقام پر بہت وضاحت سے ایک حتمی اور فیصلہ کن بیان میں فرماتے ہیں۔نبوت اور قرآن شریف کی کلید میرے دعوی کا نہم کلید ہے نبوت اور قرآن شریف کی۔جو شخص میرے دعوی کو سمجھ لے گا، نبوت کی حقیقت اور قرآن شریف کے فہم پر اس کو اطلاع دی جائے گی اور جو میرے دعوی کو نہیں سمجھتا۔اس کو قرآن شریف پر اور ( ملفوظات جلد اول صفحہ 393) رسالت پر پورا یقین نہیں ہوسکتا۔اس مقام تک جو فرمودات حضرت اقدس پیش کئے گئے ہیں ان میں وہ مرکزی نکتہ بیان ہوا ہے جس کی طرف تمام فرمودات حضرت قدم بقدم اشارہ کرتے ہوئے چلے آ رہے تھے۔اول یہ کہ جو تفہیمات قرآنیہ آپ کو عطا ہوئی ہیں وہ آپ کے وقت کی دینی اور روحانی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق تھیں اور ان سے عہدہ برا ہونے کے لئے تھیں۔اور اسی قدر تھیں جتنی اس وقت کی ضرورت تھی۔دوم یہ کہ ان دینی اور روحانی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے جو روحانی مناصب آپ کو عطا ہوئے ہیں۔ان ہی کی تصدیق و توثیق میں آپ کو فہم قرآن عطا ہوا ہے۔اور سوم یہ کہ منشاء باری تعالیٰ یہی ہے کہ مہدی معہود اور مسیح موعود کے دعاوی کی صداقت کی بنیاد پر ہی اسلام کے خلاف حملوں کا دفاع ہو اور قرآن کریم کی صداقت ثابت ہو اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور اسوہ کا احیاء ہو۔