حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 171
171 یہ ضرور یاد رکھو کہ اس اُمت کے لیے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے ہیں پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کی روسے انبیاء علیہ السلام نبی کہلاتے رہے لیکن قرآن شریف بجو نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُول (الجن : ع2) سے ظاہر ہے۔پس مصفا غیب پانے کے لیے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت اَنْعَمْتَ عَلیہم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفا غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفا غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لیے محض بروز اور ظلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔(ایک غلطی کا ازالہ رخ جلد 18 صفحہ 209) سورۃ فاتحہ میں تمہیں دعا سکھلائی گئی ہے۔یعنی یہ دعا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ علیہم پس جبہ خدا تمہیں یہ تاکید کرتاہے کہ پنج وقت یہ دعا کرو کہ نعمتیں جو نیوں اور رسولوں کے پاس ہیں۔وہ تمہیں بھی ملیں پس تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ کے وہ نعمتیں کیونکر پاسکتے ہو لہذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہونچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتا بعد وقت آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔(لیکچر سیالکوٹ۔رخ جلد 2 صفحہ 227) خلی اور بروزی نبوت دائمی ہے وَإِنَّهُمْ نُورُ اللهِ وَيُغطى بِهِمْ نُورٌ لِلْقُلُوبِ وَتِرْيَاقٌ لِسَمَ الذُّنُوبِ وَسَكِيْنَةٌ عِنْدَ الْاِحْتِضَارَ وَالْغَرُ غَرَةِ وَثَبَاتٌ عِنْدَ الرّحْلَةِ وَتَرَكِ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ - أَتَظُنُّ أَن يَكُونَ الْغَيْرُ كَمِثْلِ هَذِهِ الْفِئَةِ الْكَرِيمَةِ - كَلَّا وَالَّذِى اَخْرَجَ الْعَدْقَ مِنَ الْجَرِيمَةِ وَلِذَالِكَ عَلَّمَ اللهُ هذَ الدُّعَاءَ مِنْ غَايَةِ الرَّحْمَةِ - وَأَمَرَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَطْلُبُوا صِرَاطَ الَّذِيْنِ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ مِنَ الْحَضْرَةِ وَقَدْ ظَهَرَ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ عَلَى كُلَّ مَنْ حَةٌ مِّنَ الدِرَايَةِ - أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَدْ بُعِثَتُ عَلى قَدَمِ الْأَنْبِيَاءِ - وَإِنْ مِّنْ نَّبِيِّ إِلَّا لَهُ مَثِيلٌ فِي هَؤُلاءِ - وَلَوْلَا هَذِهِ الْمُضَاهَاةُ وَالسَّوَاءُ لَبَطَلَ طَلَبُ كَمَالِ السَّابِقِيْنَ وَبَطَلَ الدُّعَاءُ فَاللَّهُ الَّذِي أَمَرَنَا أَجْمَعِينَ - أَنْ نَقُولُ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ مُصَلِّينَ وَمُمْسِيْنَ وَمُصْبِحِيْنَ - وَإِنْ نَطْلُبَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ - أَشَارَ إِلَى أَنَّهُ قَدْ قَدَّرَ مِنَ الْاِبْتِدَاءِ - أَنْ يُبْعَثُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْضَ الصَّلَحَاءِ عَلى قَدَمِ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْ يَسْتَخْلِفَهُمْ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلُ مِنْ بَنِي إسْرَائِيلَ - وَإِنَّ هَذَا لَهُوَ الْحَقُّ فَاتُرُكِ الْجَدَلَ الْفُضُولَ وَالاَقَاوِيْلَ - وَكَانَ غَرَضُ اللَّهِ أَنْ يَجْمَعَ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَالَاتٍ مُّتَفَرِّقَةٌ وَّأَخْلَاقًا مُّتَبَدِّدَةٌ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ایک نور ہیں اور ان کے ذریعہ (لوگوں کے ) دلوں کو روشنی اور گناہوں کے زہر کے لئے تریاق دیا جاتا ہے اور جان کندنی اور غرغرہ کے وقت سکینت اور رحلت اور اس حقیر دنیا کو ترک کرنے کے وقت ثبات عطا کیا جاتا ہے۔کیا تو خیال کرتا ہے کہ کوئی اور بھی اس صاحب شرف جماعت جیسا ہوسکتا ہے؟ مجھے اُس ذات کی قسم جس نے گٹھلی سے کجھور کا درخت پیدا کیا (اس جماعت جیسا) ہرگز نہیں ( ہوسکتا ) اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنی انتہائی رحمت سے یہ دعا سکھائی اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ وہ خدا تعالیٰ سے ان لوگوں کا راستہ طلب کریں جن