حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xvi
xiii فرماتے ہیں۔اور مجھے خدا کی پاک اور مطہر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود اور اندرونی اور بیرونی اختلافات کا حکم ہوں۔یہ جو میرا نام سیح اور مہدی رکھا گیا ان دونوں ناموں سے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے مجھے مشرف فرمایا اور پھر خدا نے اپنے بلا واسطہ مکالمہ سے یہی میرا نام رکھا اور پھر زمانہ کی حالت موجودہ نے تقاضا کیا کہ یہی میرا نام ہو۔“ ( اربعین۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 346-345) اندرونی اعتبار سے امت مسلمہ کے جن مفاسد اور کج رویوں کی اصلاح آپ کے سپرد ہوئی تھی وہ اسلام کی حقیقی تعلیم کو اور حقیقی اسوۂ نبوی کو بھلا دینا تھا۔یہی وہ زمانہ تھا جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج سج رو) کہا ہے اور جس کے بارے میں فرمایا ہے ” لَيْسُوا مِنِّى وَ لَستُ مِنْهُمُ “ یعنی ان کو میری طرف منسوب نہ کرو اور نہ ہی مجھے ان سے کوئی واسطہ ہے۔فرماتے ہیں۔جو کچھ اللہ نے چاہا تھا اس کی تکمیل دوہی زمانوں میں ہوئی تھی۔ایک آپ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح و مہدی کا زمانہ یعنی ایک زمانہ میں تو قرآن اور بچی تعلیم نازل ہوئی لیکن اس تعلیم پر صبیح اعوج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا جس پردہ کا اُٹھایا جانا مسیح کے زمانہ میں مقدر تھا جیسے کہ فرمایا کہ رسول اکرم نے ایک تو موجودہ جماعت یعنی جماعت صحابہ کرام کا تزکیہ کیا اور ایک آنے والی جماعت کا جس کی شان میں لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ آیا ہے۔سو یہ ظاہر ہے کہ خدا نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا بلکہ آنے والے زمانے میں خدا حقائق قرآینہ کوکھول دے گا۔آثار میں ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضلیت ہوگی کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہوگا اور صرف قرآن سے استنباط کر کے لوگوں کو ان کی غلطیوں سے متنبہ کرے گا جو حقائق قرآن کی ناواقفیت سے لوگوں میں پیدا ہوگئی ہوں“۔بیرونی اعتبار سے جن مفاسد دینیہ کے حملوں کا آپ نے دفاع کرنا تھا وہ غیر از اسلام دنیا کی طرف سے لملفوظات جلد اول صفحہ 25) اعتراضات تھے جو ایک طوفان عظیم کی طرح سے اسلام کے مقابل پر بر پا ہو گئے تھے۔دین اسلام کے دفاع کی اس خدمت کے لئے جو منصب اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔و جس قدر حق کے مقابل پر اب معقول پسندوں کے دلوں میں اوہام باطلہ پیدا ہوئے ہیں اور عقلی اعتراضات کا ایک طوفان برپا ہوا ہے اس کی نظیر کسی زمانہ میں پہلے زمانوں میں سے نہیں پائی جاتی۔لہذا ابتداء سے اس امر کو بھی کہ ان اعتراضات کا براہین شافیه و کافیہ سے بحوالہ آیات قرآن مجید بکلی استیصال کر کے تمام ادیان باطلہ پر فوقیت اسلام ظاہر کر دی جائے اسی زمانہ پر چھوڑا گیا تھا کیونکر پیش از ظهور مفاسدان مفاسد کی اصلاح کا تذکر محض بے محل تھا۔اسی وجہ سے حکیم مطلق نے ان حقائق اور معارف کو اپنی کلام پاک میں مخفی رکھا اور کسی پر ظاہر نہ اور کیا جب تک کہ ان کے اظہار کا وقت آگیا۔ہاں اس وقت کی اس نے پہلے سے اپنی کتاب عزیز میں خبر دے رکھی تھی جو آیت هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى (الصف: 10 ) میں صاف اور کھلے کھلے طور پر مرقوم ہے۔سواب وہی وقت ہے اور ہر یک شخص روحانی روشنی کا محتاج ہو رہا ہے سو خدائے تعالیٰ نے اس روشنی کو دیکر ایک شخص کو دنیا میں بھیجاوہ کون ہے؟ یہی ہے جو بول رہا ہے۔“ (ازالہ اوہام۔رخ۔جلد 3 صفحہ 515-514)