حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 120 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 120

120 ( ترجمه از مرتب ) اسی طرح اس سورۃ میں بیان شدہ خبروں میں سے ایک خبر یہ بھی ہے کہ یہ سورۃ اس دنیا کی عمر بتاتی ہے اور ہم عنقریب اسے بھی اللہ کی دی ہوئی قوت سے لکھیں گے۔یہ وہی سورۃ فاتحہ ہے جس کی خبر خدا تعالیٰ کے انبیاء میں سے ایک نبی نے دی۔اس نبی نے کہا میں نے ایک قومی فرشتہ دیکھا جو آسمان سے اترا، اس کے ہاتھ میں سورۃ فاتحہ ایک چھوٹی سی کتاب کی شکل میں تھی اور خدائے قادر کے حکم سے اُس کا دایاں پاؤں سمندر پر اور بایاں پاؤں خشکی پر پڑا اور وہ شیر کے غرانے کی مانند بلند آواز میں پکارا، اس کی آواز سے سات گر جیں پیدا ہوئیں جن میں سے ہر ایک میں ایک مخصوص کلام (جملہ ) سنائی دیا اور کہا گیا کہ اگر ان گرجوں میں سے پیدا ہونے والے کلمات کو سر بمہر کر دے اور انہیں مت لکھ خدائے مہربان نے ایسا ہی فرمایا ہے اور نازل ہونے والے فرشتے نے اس زندہ خدا کی قسم کھا کر جس کے نور نے سمندروں اور آبادیوں کو روشن کیا ہے کہا اس ( مسیح موعود ) کے زمانہ کے بعد اس شان و مرتبہ کا زمانہ نہ آئے گا اور مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ پیشگوئی مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق ہے۔سواب وہ زمانہ آگیا ہے اور سورۃ فاتحہ کی سات آیات سے وہ آواز میں ظاہر ہوگئی ہیں اور یہ زمانہ نیکی اور ہدایت کے لحاظ سے آخری زمانہ ہے اور اس کے بعد کوئی زمانہ اس زمانہ کی شان و مرتبہ کا نہیں آئے گا اور جب ہم اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو پھر ہمارے بعد قیامت تک کوئی اور مسیح نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی آسمان سے اترے گا اور نہ ہی کوئی غار سے نکلے گا۔سوائے اس موعود دلڑکے کے (1) جس کے بارے میں پہلے سے میرے رب کے کلام میں ذکر آچکا ہے۔یہی بات سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ( مسیح موعود ) آنے والا تھا وہ آگیا ہے اور زمین و آسمان اس پر گواہی دے رہے ہیں لیکن تم اس گواہی کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے ہم عنقریب وقت نکل جانے کے بعد مجھے یاد کرو گے سعادت مند وہی شخص ہے جس نے اس وقت کو پایا اور اس کو غفلت میں ضائع نہ کیا۔اے حسرت این گروه عزیزاں مرا نہ دید وقتے به بیندم که ازین خاک بگزرم (ترجمہ: افسوس عزیزوں نے مجھے نہ پہچانا۔یہ مجھے اس وقت جانیں گے جب میں اس دنیا سے گذر جاؤں گا ) امروز قوم من نشناسد مقام من روزے بگریه باد کند وقت خوشترم (ترجمہ: آج کے دن میری قوم میرا درجہ نہیں جانتی لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ رو رو کر میرے مبارک وقت کو یاد کرے گی ) در شین فارسی متر جم صفحه 165 166 )