حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 118 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 118

118 جائیں جن پر دنیا میں ہی تیرا عذاب نازل ہوا۔یعنی یہود جو حضرت عیسی مسیح کے وقت میں تھی جو طاعون سے ہلاک کئے گئے۔خدایا ہمیں اس سے بچا کہ ہم اس قوم میں سے ہو جائیں جن کے شامل حال تیری رہنمائی نہ ہوئی اور وہ گمراہ ہو گئی یعنی نصاری۔اس دعا میں یہ پیشگوئی مخفی ہے کہ بعض مسلمانوں میں سے ایسے ہوں گے کہ وہ اپنے صدق و صفا کی وجہ سے پہلے نبیوں کے وارث ہو جائیں گے اور نبوت اور رسالت کی نعمتیں پائیں گے اور بعض ایسے ہوں گے کہ وہ یہودی صفت ہو جائیں گے جن پر دنیا میں ہی عذاب نازل ہوگا اور بعض ایسے ہوں گے کہ وہ عیسائیت کا جامہ پہن لیں گے کیونکہ خدا کے کلام میں یہ سنت مستمرہ ہے کہ جب ایک قوم کو ایک کام سے منع کیا جاتا ہے تو ضرور بعض ان میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے علم میں اس کام کے مرتکب ہونے والے ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نیکی اور سعادت کا حصہ لیتے ہیں ابتداء دنیا سے اخیر تک جس قدر خدا نے کتابیں بھیجیں ان تمام کتابوں میں خدا تعالیٰ کی یہ قدیم سنت ہے کہ جب وہ ایک قوم کو ایک کام سے منع کرتا ہے یا ایک کام کی رغبت دیتا ہے تو اس کے علم میں یہ مقدر ہوتا ہے کہ بعض اس کام کو کریں گے اور بعض نہیں۔پس یہ سورۃ پیشگوئی کر رہی ہے کہ کوئی فرد اس امت میں سے کامل طور پر نبیوں کے رنگ میں ظاہر ہوگا تا وہ پیشگوئی جو آیت صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ سے متبط ہوتی ہے وہ اکمل اور اتم طور پر پوری ہو جائے۔اور کوئی گروہ ان میں سے ان یہودیوں کے رنگ میں ظاہر ہو گا جن پر حضرت عیسی نے لعنت کی تھی اور عذاب الہی میں مبتلا ہوئے تھے تا وہ پیشگوئی جو آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مستنبط ہوتی ہے ظہور پذیر ہو۔اور کوئی گروہ ان میں سے عیسائیوں کے رنگ میں ہو جائے گا عیسائی بن جائے گا جو خدا کی رہنمائی سے بوجہ اپنی شراب خوری اور اباحت اور فسق و فجور کے بے نصیب ہو گئے۔تاوہ پیشگوئی جو آیت وَلَا الضَّالین سے مترشح ہو رہی ہے ظاہر ہو جائے اور چونکہ یہ بات مسلمانوں کے عقیدہ میں داخل ہے کہ آخری زمانہ میں ہزار ہا مسلمان کہلانے والے یہودی صفت ہو جائیں گے اور قرآن شریف کے کئی ایک مقامات میں بھی یہ پیشگوئی موجود ہے اور صدہا مسلمانوں کا عیسائی ہو جانا یا عیسائیوں کی سی بے قید اور آزاد زندگی اختیار کرنا خود مشہود اور محسوس ہو رہا ہے بلکہ بہت سے لوگ مسلمان کہلانے والے ایسے ہیں کہ وہ عیسائیوں کی طرز معاشرت پسند کرتے ہیں اور مسلمان کہلا کر نماز روزہ اور حلال اور حرام کے احکام کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ دونوں فرقے یہودی صفت اور عیسائی صفت اس ملک میں پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں تو یہ دو پیشگوئیاں سورۃ فاتحہ کی تو تم پوری ہوتے دیکھ چکے ہو اور بچشم خود مشاہدہ کر چکے ہو کہ کس قدر مسلمان یہودی صفت اور کس قد رعیسائیوں کے لباس میں ہیں۔تو اب تیسری پیشگوئی خود ماننے کے لائق ہے کہ جیسا کہ مسلمانوں نے یہودی عیسائی بننے سے یہود نصاری کی بدی کا حصہ لیا ایسا ہی ان کا حق تھا کہ بعض افراد ان کے ان مقدس لوگوں کے مرتبہ اور مقام سے بھی حصہ لیں جو بنی اسرائیل میں گذر چکے ہیں یہ خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے کہ اس نے مسلمانوں کو یہود نصاری کی بدی کا تو حصہ دار ٹھہرا دیا ہے یہاں تک کہ ان کا نام یہود بھی رکھ دیا ہے مگر ان کے رسولوں اور نبیوں کے مراتب میں سے اس امت کو کوئی حصہ نہ دیا پھر یہ امت خیر الامم کس وجہ سے ہوئی بلکہ شتر الام ہوئی کہ ہر ایک نمونہ شتر کا ان کو ملانگر نیکی کا نمونہ نہ ملا کیا ضرور