حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 108 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 108

108 اللہ تعالی پرده برانداز کلام نہیں فرماتا مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری نے دھرم کوٹ میں جو ان کا مباحثہ ہوا تھا اس کا مختصر سا تذکرہ کیا اور مہر نبی بخش صاحب بٹالوی کا بھی ذکر کیا کہ وہ وہاں آئے تھے اور انہوں نے ایک مختصر سی تقریر کی تھی مولوی عبداللہ صاحب نے کہا کہ وہ بار بار یہ اعتراض کرتے تھے کہ مرزا صاحب کا نام قرآن سے نکال کر دکھاؤ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ: وہ احمق نہیں جانتے کہ اگر خدا تعالیٰ ایسے صاف طور پر کہتا تو اختلاف کیوں ہوتا؟ یہودی اسی طرح تو ہلاک ہو گئے۔بات یہ ہے کہ اگر خدا اس طرح پر پردہ برانداز کلام کرے تو ایمان ایمان ہی نہ رہے فراست سے دیکھنا چاہیئے کہ حق کیا ہے؟ ہماری تائید میں تو اس قدر دلائل ہیں کہ فراست والا سیر ہو کر کہتا ہے کہ یہ صیح ہے۔مختلف پیرایوں میں ذکر کی حکمت ( ملفوظات جلد دوم صفحه 316) اور یادر ہے قرآن کریم میں ایک جگہ رسل کے لفظ کیسا تھ بھی مسیح موعود کی طرف اشارہ ہے۔لیکن یہ سوال کہ انہی الفاظ کے ساتھ جواحادیث میں آئے ہیں کیوں قرآن میں ذکر نہیں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تا پڑھنے والوں کو دھوکا نہ لگ جاوے کہ مسیح موعود سے مراد در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام ہی ہیں جن پر انجیل نازل ہوئی تھی۔اور ایسا ہی دجال سے کوئی خاص مفسد مراد ہے سو خدا تعالیٰ نے فرقان حمید میں ان تمام شبہات کو دور کر دیا۔اس طرح پر کہ اول نہایت تصریح اور توضیح سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی خبر دی جیسا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ (المائدہ:118) سے ظاہر ہے اور پھر ہمارے نبی ﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا بھی ظاہر کر دیا جیسا کہ فرمایا وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمُ النَّبَيِّنَ (الاحزاب: 41) - (شہادت القرآن رخ جلد 6 صفحہ 361) قرآن کریم کی سورتوں میں حضرت اقدس اور ان کی جماعت کا ذکر ہے قرآن شریف میں چار سورتیں ہیں جو بہت پڑھی جاتی ہیں۔ان میں مسیح موعود اور اس کی جماعت کا ذکر ہے (1) سورۃ فاتحہ جو ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔اس میں ہمارے دعوے کا ثبوت ہے۔جیسا کہ اس تفسیر میں ثابت کیا جائے گا۔(2) سورۃ جمعہ جس میں اخرِينَ مِنْهُمْ (الجمعہ 4) سیح موعود کی جماعت کے متعلق ہے۔یہ ہر جمعہ میں پڑھی جاتی ہے (3) سورۃ کہف جس کے پڑھنے کے واسطے رسول اللہ ﷺ نے تاکید فرمائی ہے اس کی پہلی اور پچھلی دو آیتوں میں دجال کا ذکر ہے۔(4) آخری سورۃ میں قرآن کی جس میں دجال کا نام خناس رکھا گیا ہے۔یہ وہی لفظ ہے جو عبرانی توریت میں دجال کے واسطے آیا ہے۔یعنی نخاش Wn7 ایسا ہی قرآن شریف کے اور مقامات میں بھی بہت ذکر ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 442)