حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 107
107 صلى الله قرآن شریف کی جس آیت میں آنحضرت علی اُسی آیت کا مصداق مسیح موعود بھی ہوتا ہے۔مراد ہوں آیت هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ (الصف:10) آنحضرت ﷺ کے حق میں ہے۔اور پھر یہی آیت مسیح موعود کے حق میں بھی ہے۔جیسا کہ تمام مفسر اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔پس یہ بات کوئی غیر معمولی امر نہیں ہے کہ ایک آیت کا مصداق آنحضرت ﷺ ہوں اور پھر مسیح موعود بھی اسی آیت کا مصداق ہو۔بلکہ قرآن شریف جوز والوجوہ ہے اُس کا محاورہ اسی طرز پر واقع ہو گیا ہے کہ صل الله ایک آیت میں آنحضرت له مراد اور مصداق ہوتے ہیں اور اسی آیت کا مصداق مسیح موعود بھی ہوتا ہے۔جیسا که آیت هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى (القف: 10 ) سے ظاہر ہے۔اور رسول سے مراد اس جگہ آنحضرت ﷺ بھی ہیں اور مسیح بھی مراد ہے۔تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 217) حضرت اقدس کے دعاوی کا فہم قرآن کے فہم کی کلید ہے میرے دعوئی کا فہم کلید ہے نبوت اور قرآن شریف کی جو شخص میرے دعوئی کو سمجھ لے گا نبوت کی حقیقت اور قرآن شریف کے فہم پر اس کو اطلاع دی جائے گی اور جو میرے دعوی کو نہیں سمجھتا، اس کو قرآن شریف پر اور ( ملفوظات جلد اول صفحه 393) رسالت پر پورا یقین نہیں ہوسکتا۔حضرت اقدس کا ذکر اجمالاً قرآن حکیم میں اور تفصیلاً احادیث میں پایا جاتا ہے اس قدر تقریر ہو چکی تھی کہ اس اثناء میں خلیفہ رجب الدین صاحب نے بلند آواز سے لاہور کی پبلک کی طرف سے حضرت مرزا صاحب کو ماننے کی ضرورت کا سوال پیش کیا اگر چہ بعض لوگوں کو یہ دخل اس لئے ناگوار ہوا کہ خدا تعالیٰ کا فرستادہ ٹو رفراست سے جس ضرورت کو محسوس کر کے کلام فرمارہا تھا اس کی توجہ ادھر سے پھیر دی گئی۔لیکن ہمارے نزدیک یہ تحریک بھی مصالح ایزدی سے باہر نہیں۔آپ نے فرمایا کہ :- اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ میں نے بہت سی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ سے یہ بات سمجھا دی ہوئی ہے کہ میں وہ مسیح ہوں جس کا ذکر اور وعدہ اجمالاً قرآن میں اور تفصیلاً احادیث میں پایا جاتا ہے اور جو لوگ اسے نہیں مانتے قرآن شریف کی رُو سے ان کا نام فاسق ہے اور احادیث سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو اس میسج کو نہیں مانتا وہ گویا مجھے نہیں مانتا اور جو اس کی معصیت کرتا ہے گویا میری معصیت کرتا ہے۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 107)