حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 864
864 دعا اور اسکا فلسفہ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ۔(المومن: 61) استجابت دعا کا مسئلہ در حقیقت دعا کے مسئلہ کی ایک فرع ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص نے اصل کو سمجھا ہوا نہیں ہوتا اسکو فرع کے سمجھنے میں پیچیدگیاں واقع ہوتی ہیں اور دھو کے لگتے ہیں۔۔۔دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب میں ایک تعلق جاذبہ ہے۔یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خدا تعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے۔پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہ الوھیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔تب اس کی روح اس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوت جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خدا تعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔تب اللہ جل شانہ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اسباب پر ڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لئے ضروری ہیں۔مثلاً اگر بارش کے لئے دعا ہے تو بعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبیعہ جو بارش کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔اس دعا کے اثر سے پیدا کئے جاتے ہیں۔اور اگر قحط کے لئے بد دعا ہے۔تو قادر مطلق مخالفانہ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔اسی وجہ سے یہ بات ارباب کشف اور کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہے کہ کامل کی دعا میں ایک قوت تکوین پیدا ہو جاتی ہے۔یعنی باز نہ تعالیٰ وہ دعا عالم سفلی اور علوی میں تصرف کرتی ہے اور عناصر اور اجرام فلکی اور انسانوں کے دلوں کو اس طرف لے آتی ہے جو طرف مؤید مطلوب ہے۔( بركات الدعا ر خ جلد 6 صفحہ 910 مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِةٍ۔(الانعام :92) یا درکھو کہ ہر ایک چیز خدا تعالیٰ کی آواز سنتی ہے۔ہر ایک چیز پر خدا تعالیٰ کا تصرف ہے اور ہر ایک چیز کی تمام ڈوریاں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اس کی حکمت ایک بے انتہا حکمت ہے جو ہر ایک ذرہ کی جڑھ تک پہنچی ہوئی ہے اور ہر ایک چیز میں اتنی ہی خاصیتیں ہیں جتنی اس کی قدرتیں ہیں جو شخص اس بات پر ایمان نہیں لاتا وہ اس گروہ میں داخل ہے جو مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِةٍ کے مصداق ہیں اور چونکہ انسان کامل مظہر اتم تمام عالم کا ہوتا ہے اس لئے تمام عالم اس طرف وقتاً فوقتاً کھینچا جاتا ہے وہ روحانی عالم کا ایک عنکبوت ہوتا ہے اور تمام عالم اس کی تاریں ہوتی ہیں اور خوارق کا یہی سر ہے۔