حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 854 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 854

854 جہاد مالی اور جانی اِنْفِرُوا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَ جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِى سَبِيلِ اللهِ ، ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (التوبة: 41) اصل مقصود کے پانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھہرایا ہے۔یعنی اپنا مال خدائے تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی طاقتوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی عقل کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اس کو ڈھونڈا جائے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔جاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ۔۔۔۔۔یعنی اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرو۔( اسلامی اصول کی فلاسفی رخ جلد 10 صفحہ 419 418) ط مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَ مِنْهُم مَّنْ يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔(الاحزاب : 24) صحابہ کے دلی ارادے اور نفسانی جذبات بالکل دور ہو گئے تھے۔ان کا اپنا کچھ رہا ہی نہ تھا۔نہ کوئی خواہش تھی نہ آرزو بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو اور اس کے لئے وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح ہو گئے۔قرآن شریف ان کی اس حالت کے متعلق فرماتا ہے مِنْهُم مَّنْ قَضى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔(الاحزاب : 24) یہ حالت انسان کے اندر پیدا ہو جانا آسان بات نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کو آمادہ ہو جاوے مگر صحابہ کی حالت بتاتی ہے کہ انہوں نے اس فرض کو ادا کیا۔جب انہیں حکم ہوا کہ اس راہ میں جان دے دو پھر وہ دنیا کی طرف نہیں جھکے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ۔(المنفقون: 10) ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 595) رزق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک ابتلاء کے طور پر دوسرے اصطفاء کے طور پر۔رزق ابتلاء کے طور پر تو وہ رزق ہے جس کو اللہ سے کوئی واسطہ نہیں رہتا بلکہ یہ رزق انسان کو خدا سے دور ڈالتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔اسی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کر کے فرمایا ہے لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ تمہارے مال تم کو ہلاک نہ کر دیں۔اور رزق اصطفاء کے طور پر وہ ہوتا ہے جو خدا کے لئے ہو۔ایسے لوگوں کا متولی خدا ہو جاتا ہے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ اس کو خدا ہی کا سمجھتے ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کر دکھاتے ہیں۔صحابہ کی حالت دیکھو ! جب امتحان کا وقت آیا تو جو کچھ کسی کے پاس تھا اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔حضرت ابوبکر صدیق ” سب سے اول کمبل پہن کر آگئے۔پھر اس کمبل کی جزا بھی اللہ تعالیٰ نے کیا دی کہ سب سے اول خلیفہ وہی ہوئے۔غرض یہ ہے کہ اصلی خوبی خیر اور روحانی لذت سے بہرہ ور ہونے کے لئے وہی مال کام آ سکتا ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کیا جاوے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 137-136)