حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 822
822 بزہد و ورع کوش و صدق و صفا ولیکن میفزائے مصطف پر ترجمہ: زہد و ورع اور صدق وصفا میں ترقی کرو۔مگر آنحضرت کی سنت کے مطابق۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کو تو نہ چھوڑو۔میں دیکھتا ہوں کہ قسم قسم کے وظیفے لوگوں نے ایجاد کر لئے ہیں۔الٹے سیدھے لٹکتے ہیں اور جوگیوں کی طرح راہبانہ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں لیکن یہ سب بے فائدہ ہیں انبیاء علیہم السلام کی یہ سنت نہیں کہ وہ الٹے سیدھے لٹکتے رہیں یا نفی اثبات کے ذکر کریں اور اڑہ کے ذکر کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اسوہ حسنہ فرمایا لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ آخَضِرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو اور ایک ذرہ بھر بھی ادھر یا ادھر ہونے کی کوشش نہ کرو۔( ملفوظات جلد اول صفحه 237-236) تزکیہ نفس کے لیے چلہ کشیوں کی ضرورت نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے چلہ کشیاں نہیں کی تھیں۔اڑہ اور نفی واثبات وغیرہ کے ذکر نہیں کیے تھے۔بلکہ ان کے پاس ایک اور ہی چیز تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں محو تھے جو نور آپ میں تھا وہ اس اطاعت کی نالی میں سے ہو کر صحابہ کے قلب پر گر تا تھا اور ماسوی اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا تاریکی کے بجائے ان سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔بہترین وظیفه سوال:۔بہترین وظیفہ کیا ہے؟ جواب: - نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 121 استغفار ہے اور درود شریف تمام وظائف اور اوراد کا مجموعہ ہی نماز ہے اور اس سے ہر قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اسی لیے فرمایا ہے أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ - اطمینان و سکینت قلب کے لیے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔لوگوں کے درد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مقابلہ میں بنادی ہوئی ہے۔مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ان وظائف اور اور اد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالے کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔بعض لوگ دیکھتے جاتے ہیں کہ پنے معمول اور اور اد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے که تبعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لیے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نماز یاد الہی کا ذریعہ ہے۔اس لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى۔(طه: 15) (ملفوظات جلد سوم صفحہ 311 310)