حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 791
791 تحریف۔اور یہود اللہ تعالیٰ نے توریت میں یہودیوں کو یہ حکم دیا کہ تم نے توریت کی تحریف نہ کرنا سواس حکم کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض یہود نے توریت کی تحریف کی مگر قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو کہیں یہ حکم نہیں دیا کہ تم نے قرآن کی تعریف نہ کرنا بلکہ یہ فرمایا کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَإِنَّالَهُ، لَحفِظُونَ۔(الحجر: 10) یعنی ہم نے ہی قرآن شریف کو اتارا اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔اسی وجہ سے قرآن شریف تحریف سے محفوظ رہا۔غرض یہ قطعی اور یقینی اور مسلم سنت الہی ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی کتاب میں کسی قوم یا جماعت کو ایک برے کام سے منع کرتا ہے یا نیک کام کے لئے حکم فرماتا ہے تو اس کے علم قدیم میں یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس کے حکم کی مخالفت بھی کریں گے۔تذکرہ الشہادتین۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 15-14) قرینہ چہارم دابتہ الارض کے طاعون ہونے پر یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں ایک رنگ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ کسی وقت بعض مسلمان بھی وہ یہودی بن جائینگے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں تھے جو آخر کار طاعون وغیرہ بلاؤں سے ہلاک کئے گئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ عادت ہے کہ جب ایک قوم کو کسی فعل سے منع کرتا ہے تو ضرور اسکی تقدیر میں یہ ہوتا ہے کہ بعض ان میں سے اس فعل کے ضرور مرتکب ہو نگے جیسا کہ اس نے توریت میں یہودیوں کو منع کیا تھا کہ تم نے توریت اور دوسری خدا کی کتابوں کی تحریف نہ کرنا۔سو آخران میں سے بعض نے تحریف کی مگر قرآن میں یہ نہیں کہا گیا کہ تم نے قرآن کی تحریف نہ کرنا بلکہ یہ کہا گیا۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّالَهُ، لَحْفِظُوْنَ۔سوسورت فاتحہ میں خدا نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔اس جگہ احادیث صحیحہ کے رو سے بکمال تواتر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ المغضوب علیھم سے مراد بدکار اور فاسق یہودی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو کا فرقراردیا اور قتل کے درپے رہے اور اس کی سخت تو ہین وتحقیر کی اور جن پر حضرت عیسی نے لعنت بھیجی جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے۔( نزول اسیح - رخ - جلد 18 صفحہ 419-418) پھر وہ دن جب آگئے اور چودھویں آئی صدی سب سے اوّل ہو گئے منکر یہی دیں کے منار پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود پھر مسیح وقت کے دشمن ہوئے یہ جبہ دار تھا نوشتوں میں یہی از ابتدا تا انتہا پھر مٹے کیونکر کہ ہے تقدیر نے نقش جدار (براہین احمدیہ۔ر - خ - جلد 21 صفحہ 138 ) ( در شین اردو صفحه 128)