حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 787
787 یہود یہ بات بھی یا درکھنے کے لائق ہے کہ انجیل اور قرآن شریف میں جہاں یہودیوں کا کچھ خراب حال بیان کیا ہے وہاں دنیا داروں اور عوام کا تذکرہ نہیں بلکہ ان کے مولوی اور فقیہ اور سردار کا ہن مراد ہیں جن کے ہاتھ میں کفر کے فتوے ہوتے ہیں اور جن کے وعظوں پر عوام افروختہ ہو جاتے ہیں اسی واسطے قرآن شریف میں ایسے یہودیوں کی اس گدھے سے مثال دی ہے جو کتابوں سے لدا ہوا ہو۔ظاہر ہے کہ عوام کو کتابوں سے کچھ سروکار نہیں کتا ہیں تو مولوی لوگ رکھا کرتے ہیں لہذا یہ بات یا درکھنے کے لائق ہے کہ جہاں انجیل اور قرآن اور حدیث میں یہودیوں کا ذکر ہے وہاں ان کے مولوی اور علماء مراد ہیں اور اسی طرح غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے لفظ سے عام مسلمان مراد نہیں ہیں بلکہ ان کے مولوی مراد ہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ- جلد 17 صفحہ 330-329) قرآنی معافی کے خلاف معافی کرنا تحریف والحاد ہے فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ۔(المومن : 78) انصاف کی آنکھ سے دیکھنا چاہیئے کہ جس طرح حضرت مسیح کے حق میں اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں إِنِّي مُتَوَفِّيكَ فرمایا ہے اسی طرح ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (یونس: (47) یعنی دونوں جگہ مسیح کے حق میں اور ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں توفی کا لفظ موجود ہے پھر کس قدر نا انصافی کی بات ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ کی نسبت جو توفی کا لفظ آیا ہے تو اس جگہ تو ہم وفات کے ہی معنے کریں اور اسی لفظ کو حضرت عیسی کی نسبت اپنے اصلی اور شائع متعارف سے پھیر کر اور ان متفق علیہ معنے سے جو اول سے آخر تک قرآن شریف سے ظاہر ہورہے ہیں انحراف کر کے اپنے دل سے کچھ اور کے اور معنے تراش لیں۔اگر یہ الحاد اور تحریف نہیں تو پھر الحاد اور تحریف کس کو کہتے ہیں؟ (ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 274) مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَع وَّرَاعِنَا لَيَّا بِالْسِنَتِهِمْ وَطَعْنَا فِي الدَيْنِ ، وَ لَوْأَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ ، وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاقْوَمَ وَلَكِنْ لَّعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ إِلَّا قَلِيلاً۔(النساء: 47) یہودی بھی تو ایسے ہی کام کرتے تھے کہ اپنی رائے سے اپنی تفسیروں میں بعض آیات کے معنے کرنے کے وقت بعض الفاظ کو مقدم اور بعض کو موخر کر دیتے تھے جن کی نسبت قرآن مجید میں یہ آیت موجود ہے کہ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہ ان کی تحریف ہمیشہ لفظی نہیں تھی بلکہ معنوی بھی تھی۔سوایسی تحریفوں سے ہر ایک مسلمان کو ڈرنا چاہیئے۔الحق مباحثہ دہلی۔ر- خ - جلد 4 صفحہ 215)