حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 723 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 723

723 تیسری فصل حضرت اقدس کے دعاوی کا عرفان فہم قرآن کی کلید ہے اَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (الغاشية: 18) میرے دعوی کا فہم کلید ہے نبوت اور قرآن شریف کی۔جو شخص میرے دعوئی کو سمجھ لے گا نبوت کی حقیقت اور قرآن شریف کے فہم پر اس کو اطلاع دی جائے گی اور جو میرے دعوی کو نہیں سمجھتا اس کو قرآن شریف پر اور رسالت پر پورا یقین نہیں ہوسکتا۔اونٹ کی سرشت میں اتباع امام کا مسئلہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الابل کہہ کر اس مجموعی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے جبکہ اونٹ ایک قطار میں جارہے ہوں۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ تمدنی اور اتحادی حالت کو قائم رکھنے کے واسطے ایک امام ہو۔پھر یہ بھی یادر ہے کہ یہ قطار سفر کے وقت ہوتی ہے۔پس دنیا کے سفر کو قطع کرنے کے واسطے جب تک ایک امام نہ ہو انسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے۔میرے پاس آؤ اور میری سنو ! ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 394-393) میری حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں ہے بلکہ میری حیثیت سننِ انبیاء کی سی حیثیت ہے۔مجھے ایک سماوی آدمی مانو۔پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزا ئیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں، ایک دم میں طے ہو سکتی ہیں جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حکم بن کر آیا ہے۔جو معنے قرآن شریف کے وہ کرے گا وہی صحیح ہوں گے اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گا وہی حدیث صحیح ہوگی۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 399) و ما كتبته من حولي۔و انی ضعیف و کمثلی قولی۔بل الله و الطافه اغلاق خزائنه۔۔و من عنده اسرار دفائنه جمعت فيه انواع المعارف و رتبت و صففت شواردا النكات و الجمت من عرفه عرف القرآن ترجمہ :۔میں نے یہ کتاب اپنی قابلیت پر انحصار کر کے نہیں لکھی کیونکہ میں کمزور ہوں اور میری بات بھی کمزور ہے۔بلکہ اسی کتاب کے خزانوں کی چابی خدا تعالیٰ کی مہربانیاں ہیں۔اور یہ اسی کی طرف سے یہ اسرار کے دفینے ہیں۔میں نے اس کتاب میں ہر قسم کے معارف جمع کئے ہیں اور ان کو ترتیب دی ہے۔اور معارف کے گھوڑوں کو صف بصف کھڑا کیا ہے۔اور ان کو لگام دی ہے۔جو بھی اس کتاب کو سمجھ لے گا وہ قرآن کریم کا فہم پائیگا۔اعجاز اسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 58-57) علم قرآن علم آں طیب زباں علم غیب از وحی خلاق جہاں قرآن کا علم۔اس پاک زبان کا علم اور الہام الہی سے غیب کا علم۔این سه علم چوں نشانها داده اند ہر سہ ہمیچوں شاہداں استادہ یہ تین علم مجھے نشان کے طور پر دیئے گئے ہیں اور تینوں بطور گواہ میری تائید میں کھڑے ہیں۔اند ( تحفہ غزنوی - ر -خ- جلد 15 صفحہ 533) ( درشین فاری مترجم صفحه 260)