حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 702 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 702

702 لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَ هُمْ أَوْ أَبْنَاءَ هُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيْرَتَهُمْ أُولَئِكَ دو كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَ هُم بِرُوحِ مِنْهُ۔(المجادلة:23) یہ بھی بیان فرمایا کہ روح القدس سے ہم نے ان کو تائید دی کیونکہ جب ایمان دلوں میں لکھا گیا اور فطرتی حروف میں داخل ہو گیا تو ایک نئی پیدائش انسان کو حاصل ہوگئی اور یہ ئی پیدائش بجز تائید روح القدس کے ہر گز نہیں مل سکتی۔روح القدس کا نام اسی لئے روح القدس ہے کہ اس کے داخل ہونے سے ایک پاک روح انسان کو مل جاتی ہے۔قرآن کریم روحانی حیات کے ذکر سے بھرا پڑا ہے اور جابجا کامل مومنوں کا نام احیاء یعنی زندے اور کفار کا نام اموات یعنی مردے رکھتا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کامل مومنوں کو روح القدس کے دخول سے ایک جان مل جاتی ہے اور کفار گو جسمانی طور پر حیات رکھتے ہیں مگر اس حیات سے بے نصیب ہیں جو دل اور دماغ کو ایمانی زندگی بخشتی ہے۔( آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 101-102) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔(الحجر: 100) اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ تو عبادت کرتا رہ جب تک کہ تجھے یقین کامل کا مرتبہ حاصل نہ ہوا اور تمام حجاب اور ظلماتی پر دے دور ہو کر یہ سمجھ میں نہ آجاوے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا بلکہ اب تو نیا ملک نئی زمین نیا آسمان ہے اور میں بھی کوئی نئی مخلوق ہوں یہ حیات ثانی وہی ہے جس کو صوفی بقا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔جب انسان اس درجہ پر پہنچ جاتاہے تو اللہ تعالی کی روح کا نفخ اس میں ہوتا ہے۔ملائکہ کا اس پر نزول ہوتا ہے۔یہی وہ راز تھا جس پر پیغمبر خدا صلے اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت فرمایا کہ اگر کوئی چاہے کہ مردہ میت کو زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو وہ ابو بکر کو دیکھے۔اور ابوبکر کا درجہ اس کے ظاہری اعمال سے ہی نہیں بلکہ اس بات سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 368-369) موت وحیات سے مراد۔روحانی موت اور زندگی۔کامیابی اور نا کامی بھی ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا سُتَجِيبُوا لِلَّهِ وَ لِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمُ لِمَا يُحْيِيكُمُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ۔(الانفال : 25) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے ہاتھ پر مردے زندہ ہوتے ہیں لِمَا يُحْيِيكُمُ اور سب کو معلوم ہے کہ اس سے مراد روحانی مردوں کا زندہ ہونا ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 633)