حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 696 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 696

696 زمین سے مراد۔انسان اور انسان کا دل ہے خدا تعالیٰ نے قلب کا نام بھی زمین رکھا ہے۔اَنَّ اللهَ يُحْيِ الأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحديد : 18) زمین کا کس قدر ڈو کرنا پڑتا ہے بیل خریدتا ہے، ہل چلاتا ہے تخمریزی کرتا ہے آبپاشی کرتا ہے۔غرضیکہ بہت بڑی محنت کرتا ہے اور جب تک خود دخل نہ دے کچھ بھی نہیں بنتا ٹھیک اسی طرح پر ارض دل کی خاصیت ہے جو اس کو بے عزتی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس کو خدا تعالیٰ کا فضل اور برکت نہیں ملتی۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 351) إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا یہ اس جگہ زمین سے مرادزمین کے رہنے والے ہیں اور یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کی باطنی قومی مراد ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحديد: 18) جیسا کہ فرماتا ہے وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِى خَبُتَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا (الاعراف: 59) ایسا ہی قرآن شریف میں بیسیوں نظیریں موجود ہیں جو پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔(ازالہ اوہام - ر- خ - جلد 3 صفحہ 169 - 168 ) قرآن کریم کی پانی سے تشبیہ ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا یعنی قرآن تاہم اس کے ساتھ مردہ زمین کو زندہ کریں۔(ازالہ اوھام -ر خ- جلد 3 صفحہ 322) زنجیروں سے مراد د نیا میں گرفتار انسان ہے إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلًا وَأَغْلَلاً وَّ سَعِيرًا۔(الدهر: 5) ہم نے منکروں کے لئے جو سچائی کو قبول کرنا نہیں چاہتے زنجیریں تیار کر دی اور طوق گردن اور ایک افروختہ آگ کی سوزش۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سچے دل سے خدائے تعالیٰ کو نہیں ڈھونڈتے ان پر خدا کی طرف سے رجعت پڑتی ہے۔وہ دنیا کی گرفتاریوں میں ایسے مبتلا رہتے ہیں کہ گویا پابہ زنجیر ہیں اور زمینی کاموں میں ایسے نگونسار ہوتے ہیں کہ گویا ان کی گردن میں ایک طوق ہے جو ان کو آسمان کی طرف سر نہیں اٹھانے دیتا اور ان کے دلوں میں حرص و ہوا کی ایک سوزش لگی ہوئی ہوتی ہے کہ یہ مال حاصل ہو جائے اور یہ جائیدا دل جائے اور فلاں ملک ہمارے قبضہ میں آ جائے اور فلاں دشمن پر ہم فتح پائیں۔اس قدر روپیہ ہو۔اتنی دولت ہو۔سو چونکہ خدائے تعالیٰ ان کو نالائق دیکھتا ہے اور برے کاموں میں مشغول پاتا ہے اس لئے یہ تینوں بلائیں ان کو لگا دیتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی - ر- خ - جلد 10 صفحہ 388)