حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 677
677 مجازی معانی اختیار کرنے کے لئے قرینہ کا قیام ضروری ہے نام سورة الجزو الانعام زمر 7 آیت قرآن کریم هُوَ الَّذِى يَتَوَفَّيكُمُ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمُ بِالنَّهَارِثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى اَجَلٌ مُّسَمًّى۔42 اللَّهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِي لَمْ تَمُتُ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى۔اب ظاہر ہے کہ ان تمام مقامات قرآن کریم میں توفی کے لفظ سے موت اور قبض روح ہی مراد ہے اور دو موخرالذکر آیتیں اگر چہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں مگر در حقیقت ان دونوں آیتوں میں کبھی نیند نہیں مراد لی گئی بلکہ اس جگہ بھی اصل مقصد اور مدعاموت ہے اور یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہی ہے اور جیسی موت میں روح قبض کی جاتی ہے نیند میں بھی روح قبض کی جاتی ہے سو ان دونوں مقامات میں نیند پر توفی کے لفظ کا اطلاق کرنا ایک استعارہ ہے جو بہ نصب قرینہ نوم استعمال کیا گیا ہے یعنی صاف لفظوں میں نیند کا ذکر کیا گیا ہے تا ہر ایک شخص سمجھ لیوے کہ اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔یہ بات ادنی ذی علم کو بھی معلوم ہوگی کہ جب کوئی لفظ حقیقت مسلمہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے یعنی ایسے معنوں پر جن کے لیے وہ عام طور پر موضوع یا عام طور پر مستعمل ہو گیا ہے تو اس جگہ متکلم کے لیے کچھ ضروری نہیں ہوتا کہ اس کی شناخت کے لیے کوئی قرینہ قائم کرے کیونکہ وہ ان معنوں میں شائع متعارف اور متبادر الفہم ہے۔لیکن جب ایک متکلم کسی لفظ کے معانی حقیقت مسلمہ سے پھیر کر کسی مجازی معنی کی طرف لے جاتا ہے تو اس جگہ صراحتا یا کنا بتایا کسی دوسرے رنگ کے پیرایہ میں کوئی قرینہ اس کو قائم کرنا پڑتا ہے تا اس کا سمجھنا مشتبہ نہ ہو۔اور اس بات کے دریافت کے لیے کہ متکلم نے ایک لفظ بطور حقیقت مسلّمہ استعمال کیا ہے یا بطور مجاز اور استعارہ نادرہ کے بھی کھلی کھلی علامت ہوتی ہے کہ وہ حقیقت مسلمہ کو ایک متبادر اور شائع و متعارف لفظ سمجھ کر بغیر احتیاج قراین کے یونہی مختصر بیان کر دیتا ہے مگر مجاز یا استعارہ نادرہ کے وقت ایسا اختصار پسند نہیں کرتا بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ کسی ایسی علامت سے جس کو ایک دانشمند سمجھ سکے اپنے اس مدعا کو ظاہر کر جائے کہ یہ لفظ اپنے اصل معنوں پر مستعمل نہیں ہوا۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 268-269)