حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 672
672 وَ نُفِخَ فِى الصُّوْرِ فَجَمَعُنهُمْ جَمْعًا (الكهف (100) غرض اس وقت ہر ایک رشید خدا کی آواز سن لے گا اور اس کی طرف کھینچا جائے گا اور دیکھ لے گا کہ اب زمین اور آسمان دوسرے رنگ میں ہیں نہ وہ زمین ہے اور نہ وہ آسمان جیسا کہ مجھے پہلے اس سے ایک کشفی رنگ میں دکھلایا گیا کہ میں نے ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنایا ایسا ہی عنقریب ہونے والا ہے اور کشفی رنگ میں یہ بنانا میری طرف منسوب کیا گیا کیونکہ خدا نے اس زمانہ کے لئے مجھے بھیجا ہے لہذا اس نئے آسمان اور نئی زمین کا میں ہی موجب ہوا اور ایسے استعارات خدا کی کلام میں بہت ہیں۔براهین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 109) إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ۔(الاعراف:55) عرش اللہ تعالیٰ کی جلالی و جمالی صفات کا مظہر اتم ہے عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق کے متعلق میں کچھ نہیں کہتا۔اس کی تفصیل حوالہ بخدا کرنی چاہیئے۔جنہوں نے مخلوق کہا ہے انہوں نے بھی غلطی کھائی ہے کیونکہ پھر اس سے وہ محدود لازم آتا ہے۔اور جو غیر مخلوق کہتے ہیں وہ توحید کے خلاف کہتے ہیں کیونکہ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ اگر یہ غیر مخلوق ہو تو پھر اس سے باہر رہ جاتی ہے۔مومن موقد اس کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ہم اس کے متعلق کچھ نہیں کہتے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔یہ ایک استعارہ ہے جیسے اُفَطِرُ وَ اَصُومُ يا أُخْطِئُ وَ أصِيبُ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ استعارات کے ذریعہ کلام کرتا ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی کیفیت کو حوالہ بخدا کرتے ہیں پس ہمارا مذ ہب عرش کے متعلق یہی ہے کہ اس کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث میں دخل نہ دو۔ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کی جلالی ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 634) و جمالی تجلیات کا مظہر ہے۔کلام الہی میں استعارات اس پر ایک شخص نے عرض کی کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خدا بھی اب روزے رکھنے لگ گیا ہے۔فرمایا:۔ساری کتابوں میں اس قسم کے فقرات پائے جاتے ہیں۔فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَ كُمُ اوُ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقرة: 201) اور يَدُ اللهِ فَوقَ أَيْدِيهِمُ (الفتح: 11) ایسے فقرات قرآن مجید میں لکھے ہیں۔حدیث شریف میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ تر ڈد کرتا ہے۔توریت میں لکھا ہے خدا طوفان لا کے پھر پچھتایا۔یہ تو استعارات ہوتے ہیں۔ان پر اعتراض کرنے کے معنے ہی کیا۔بلکہ ان سے تو سمجھا جاتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اس بات کو سوچنا چاہیئے کہ بناوٹ والے انسان کو کیا مشکل بنی ہے جو وہ جان بوجھ کر ایسی باتیں کرے جن پر خواہ نخواہ اعتراض ہوں۔