حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 610
پانچویں فصل 610 قیامت برحق ہے یوم آخر اور قیامت پر ایمان وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔(البقرة :5) طالب نجات وہ ہے جو خاتم النبین پیغمبر آخرالزمان پر جو کچھ اوتارا گیا ہے۔اوس پر ایمان لاوے اور اس پیغمبر سے پہلے جو کتا ہیں اور صحیفے سابقہ انبیاء اور رسولوں پر نازل ہوئے ان کو بھی مانے۔وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اور طالب نجات وہ ہے جو پچھلی آنے والی گھڑی یعنی قیامت پر یقین رکھے اور جزاوسز امانتا ہو۔الحکم جلد 8 نمبر 35-34 صفحہ 9 مورخہ 10/7 اکتوبر 1904) كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان وَيَبْقَى وَجُهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔(الرحمن : 27-28) خدا تعالیٰ قدیم سے خالق چلا آتا ہے لیکن اس کی وحدت اس بات کو بھی چاہتی ہے کہ کسی وقت سب کو فتا کردے۔كُلُّ مُنْ عَلَيْهَا فَان سب جو اس پر ہیں فنا ہو جانے والے ہیں خواہ کوئی وقت ہو۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ وقت کب آئے گا مگر ایسا وقت ضرور آنے والا ہے۔یہ اس کے آگے ایک کرشمہ قدرت ہے وہ چاہے پھر خلق جدید کر سکتا ہے تمام آسمانی کتابوں سے ظاہر ہے کہ ایسا وقت ضرور آنے والا ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 152) ہم کو اس ( خدا ) نے قرآن اور حدیث کے ذریعہ خبر دی ہے کہ ایک زمانہ اور بھی آنے والا ہے۔جبکہ خدا کے ساتھ کوئی نہ ہوگا۔وہ زمانہ بڑا خوفناک زمانہ ہے۔چونکہ اس پر ایمان لانا ہر مومن اور مسلمان کا کام ہے۔جواس پر ایمان نہیں لاتا۔وہ مسلمان نہیں۔کافر ہے۔اور بے ایمان ہے۔جس طرح سے بہشت۔دوزخ۔انبیاء علیہم السلام اور اور کتابوں پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ویسا ہی اس ساعت پر ایمان لانا لازم ہے۔جب نفخ صور ہو کر سب نیست و نابود ہو جاویں گے یہ سنت اللہ اور عادت اللہ ہے۔(رسالہ الانذار صفحہ 56-55) فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ۔(الشورى: 8) اگر کوئی کہے کہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور یہاں ہی دوزخ بہشت ہوگا ہم نہیں مان سکتے۔اس کی صفت مَلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے خلاف ہے اور اس کے خلاف جا ٹھہرتا ہے۔فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ - ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 448)