حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 597
597 واضح ہو کہ قرآن شریف میں ان آیات کے ذکر کرنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر اس کے جو رسول پر ایمان لایا جائے نجات ہوسکتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ خدائے واحد لاشریک اور یوم آخرت پر ایمان لا یا جاوے نجات نہیں ہو سکی اور اللہ پر پورا ایمان بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے رسولوں پر ایمان لاوے وجہ یہ کہ وہ اس کی صفات کے مظہر ہیں اور کسی چیز کا وجود بغیر وجود اس کی صفات کے پایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔لہذ ابغیر علم صفات باری تعالیٰ کے معرفت باری تعالٰی ناقص رہ جاتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ- جلد 22 صفحہ 173-172) (10) يايها لناس قد جاء كم الرسول بالحق من ربكم فامنوا خيراً لكم وان تكفروا فان الله ما فى السموات والارض وكان الله عليما حكيما۔(الجزو نمبر 6 سورة نساء) (ترجمہ) اے لوگو! تمہارے پاس رسول حق کے ساتھ آیا ہے۔پس تم اس رسول پر ایمان لاؤ۔تمہاری بہتری اسی میں ہے اور اگر تم کفر اختیار کرو تو خدا کو تمہاری کیا پروا ہے۔زمین و آسمان سب اسی کا ہے اور سب اس کی اطاعت کر رہے ہیں اور خدا علیم اور حکیم ہے۔وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُم مِّنْ كِتَبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمُ رَسُولٌ مُّصَدِّقَ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ (حقیقۃ الوحی۔رخ- جلد 22 صفحہ 132-131 ) اِصْرِيْ قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَ أَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّهِدِينَ۔(ال عمران : 82) ( ترجمہ ) اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دونگا اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کریگا تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی اور کہا کیا تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر استوار ہو گئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اقرار کر لیا۔تب خدا نے فرمایا کہ اب اپنے اقرار کے گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ اس بات کا گواہ ہوں۔اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہو گئے تھے یہ حکم ہر نبی کی امت کے لیے ہے کہ جب وہ رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لاؤ ورنہ مواخذہ ہو گا۔اب بتلاویں میاں عبدالحکیم خان نیم ملا خطرہ ایمان ! اگر صرف تو حید خشک سے نجات ہو سکتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے کیوں مواخذہ کریگا جو گو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے مگر تو حید باری کے قابل ہیں۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 134-133)