حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 32 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 32

32 فہم قرآن کے لئے پاک نفس ہونے کی شرط ہے اور خدائے تعالیٰ کی عنایات خاصہ میں سے ایک یہ بھی مجھ پر ہے کہ اس نے علم حقائق و معارف قرآنی مجھے کو عطا کیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ مطہرین کی علامتوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان علامت ہے کہ علم معارف قرآن حاصل ہو کیونکہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعه : 80) سومخالف پر بھی لازم ہے کہ جس قدر میں اب تک معارف قرآن کریم اپنی متفرق کتابوں میں بیان کر چکا ہوں۔اس کے مقابل پر کچھ اپنے معارف کا نمونہ دکھاویں اور کوئی رسالہ چھاپ کر مشتہر کریں تا لوگ دیکھ لیں کہ جو دقائق علم ومعرفت اہل اللہ کو ملتے ہیں۔وہ کہاں تک ان کو حاصل ہیں مگر بشر طیکہ کتابوں کی نقل نہ ہو۔(ازالہ اوہام - رخ جلد 3 صفحہ 443) و و وَمِنْ آيَاتِ صِدْقِى أَنَّهُ أَعْطَانِي عِلْمَ الْقُرْآن وَاَخْبَرَنِى مِنْ دَقَائِقِ الْفُرْقَانِ الَّذِي لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔وَمِنْ آيَاتِ صِدْقِى انَّهُ اَدْبَنِى فَاَحْسَنَ تَأدِينِي وَجَعَلَ مَشْرَبِي الصَّبْرِ وَالرَّضَاءِ وَالْمَوَافِقَة لِرَبِّى وَالْإِتْبَاعِ لِرَسُولِى وَاَوْدَعَ فِي فِطْرَتِي رَمُوْزَ الْعِرْفَانِ وَجَعَلَنِي عَارَ فَالْمَصَالِحِ الْأُمُورِ وَ مَفَاسِدهَا وَأَدْخَلَنِي فِي الَّذِينَ هُمْ مُنْفَرِدُونَ۔آئینہ کمالات اسلام رخ جلد 5 صفحہ 485۔484) ترجمه از مرتب اور میری صداقت کے نشانات میں سے یہ ہے کہ اس نے مجھے علم قرآنی عطا کیا ہے اور قرآن کریم کے دقائق (اسرار ورموز ) سے آگاہ کیا ہے قرآن فرقان ہے جس کے متعلق اللہ فرماتا ہے لا يمسه الَّا الْمُطَهَّرُونَ (یعنی سوائے متقیوں کے کوئی اسے چھو بھی نہیں سکتا )۔اور میری صداقت کے نشانات میں سے ہے اس نے مجھے سکھایا جس طرح سکھانے کا حق تھا یعنی بہترین سکھانا۔اور میری طبیعت میں صبر و رضا رکھا ہے اور اپنے رب کے احکامات موافقت اور اپنے رسول عظیم اتباع کامل اور میری فطرت میں اس عرفان کے اسرار ودیعت کئے ہیں اور مجھے عارف بنایا ہے۔تاکہ میں بگڑے ہوئے امور دینیہ کی اصلاح کروں اور اس پاک ذات نے مجھے ان لوگوں میں شامل فرمایا ہے۔جو اس کی نگاہ میں چنیدہ ہیں اور ایک منفرد حیثیت پر فائز ہیں۔یک قدم دوری ازاں روشن کتاب نزد ما کفر است و خسران و تاب اس نورانی کتاب سے ایک قدم بھی دور رہنا ہمارے نزدیک کفرو زیاں اور ہلاکت ہے دوناں را بمغرش راه نیست ہر ولی از سبز آن آگاه نیست لیکن ذلیل لوگوں کو قرآن کی حقیقت کی خبر نہیں ہر ایک دل اس کے بھیدوں سے واقف نہیں ہے تا نباشد طالبے پاک اندروں تا نجوشد عشق یار بے چکوں جب تک طالب حق پاک باطن نہیں ہوتا اور جب تک اس یار بے مثال کا عشق اس کے دل میں جوش نہیں مارتا قرآن را کجا فهمید بہر نورے نوری باید بے تب تک کوئی قرآنی اسرار کو کیونکر سمجھ سکتا ہے نور کے سمجھنے کے لیے بہت سا نور باطن ہونا چاہیئے ایں نہ من قرآن ہمیں فرموده است اندرو شرط تطهر بوده است راز کیسے۔پر میری بات نہیں بلکہ قرآن نے بھی یہی فرمایا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے پاک ہونے کی شرط ہے بقرآں ہر کسے را راه بود پس چرا شرط تطهر را فزود اگر ہر شخص قرآن کو (خود ہی) سمجھ سکتا کی شرط کیوں زائد لگائی داند کسے کو نور شد نور را تو خدا نے تطهیر ہو و از حجاب سرکی با دور شد نور کو وہی شخص سمجھتا ہے جو خود نور ہو گیا ہو اور سر کشی کے حجابوں سے دور ہو گیا ہو ( درشین فارسی صفحه 203) (سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 96)