حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 567 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 567

567 پہلی فصل ارکان ایمان امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَ مَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ وَ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ۔(البقره: 286) یعنی رسول اور اس کے ساتھ کے مومن اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جوان پر نازل کی گئی اور ہر ایک خدا پر ایمان لایا اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور ان کا یہ اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے۔اس طرح پر کہ بعض کو قبول کریں اور بعض کو رد کر دیں۔بلکہ ہم سب کو قبول کرتے ہیں۔ہم نے سنا اور ایمان لائے اے خدا ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف ہی ہماری بازگشت ہے۔ایمان کی تعریف (چشمہ معرفت۔رخ- جلد 23 صفحہ 378-377) أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔(العنكبوت:3) جو شخص ایمان لاتا ہے اس کو عرفان دیا جاتا ہے۔ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا کہ جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک و شبہات سے ہنوز لڑائی ہے۔پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی با وجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔اسی لئے ایک مرد متقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کو سنکر ہر ایک پہلو پر ابتداء امر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامورمن اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آ جاتا ہے اسی کو اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہرا لیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ نہیں آتا اس میں سنت صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے تب خدا تعالیٰ اس کی حالت پر رحم کر کے اور اس کے ایمان پر راضی ہو کر اور اس کی دعاؤں کو سنکر معرفت تامہ کا دروازہ اس پر کھولتا ہے اور الہام اور کشوف کے ذریعہ سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اس کو پہنچا تا ہے۔ایام اصلح۔رخ۔جلد 14 صفحہ 261)