حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 542 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 542

542 مومن فوراً جنت میں داخل ہو جاتا ہے قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ يَلَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَ جَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ۔(يس: 28-27) فاعلم يا اخي ان هذه العقيدث ردية فاسدة ومملوة من سوء الادب۔اماقرات ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الجنة تحت قبرى و قال ان قبر المومن روضة من روضات الجنة وقال عزوجل فى كتابه المحكم يايتها النفس المطمئنة ارجعى الى ربك راضية مرضية فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی (الفجر : 31-28) و قال فى مقام اخر قيل ادخل الجنة۔حمامة البشرای۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 249) اے میرے بھائی جان لے کہ یہ عقیدہ رڈی اور فاسد ہے اور بے ادبی سے پُر ہے۔کیا تو نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نہیں پڑھی کہ جنت میری قبر کے نیچے ہے۔نیز آپ نے فرمایا کہ مومن کی قبر جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور خدائے عز وجل نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔يَآيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّک۔(الفجر: 31-28) یعنی اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ اس حال میں کہ تو اسے پسند کرنے والا بھی ہے اور اس کا پسندیدہ بھی۔پھر تیرا رب تجھے کہتا ہے کہ آ میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا اور آمیری جنت میں بھی داخل ہو جا۔اسی طرح ایک اور جگہ قرآن کریم میں فرماتا ہے اسے کہا گیا کہ تو بہشت میں داخل ہو جا۔دوزخی فوراً دوزخ میں جائیگا مِمَّا خَطِيئَتِهِمُ اغْرِقُوا فَأَدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِّنْ دُونِ اللَّهِ أَنْصَارًا۔(نوح: 26) جو لوگ اپنی کثرت نافرمانی کی وجہ سے ایسے فنافی الشیطان ہونے کی حالت میں دنیا سے جدا ہوتے ہیں کہ شیطان کی فرمانبرداری کی وجہ سے بکلی تعلقات اپنے مولیٰ سے توڑ دیتے ہیں ان کے لئے ان کی موت کے بعد صرف دوزخ کی طرف کھڑ کی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور سارے قوی کے ساتھ خاص دوزخ میں ڈال دئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے مِمَّا خَطِيئَتِهِمُ اغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا مگر پھر بھی وہ لوگ قیامت کے دن سے پہلے اکمل اور اتم طور پر عقوبات جہنم کا مزہ نہیں چکھتے۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 284-283)