حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 541 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 541

541 کی محبت کی شراب جس سے وہ دنیا میں روحانی طور پر ہمیشہ مست رہتا تھا اور اب بہشت میں ظاہر ظاہر اسکی نہریں نظر آئیں گی اور وہ حلاوت ایمانی کا شہر جود نیا میں روحانی طور پر عارف کے منہ میں جاتا تھا وہ بہشت میں محسوس اور نمایاں نہروں کی طرح دکھائی دیگا اور ہر ایک بہشتی اپنی نہروں اور اپنے باغوں کے ساتھ اپنی روحانی حالت کا اندازہ بر ہنہ کر کے دکھلا دے گا اور خدا بھی اس دن بہشتیوں کے لئے حجابوں سے باہر آ جائے گا۔غرض روحانی حالتیں مخفی نہیں رہیں گی بلکہ جسمانی طور پر نظر آئیں گی۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔رخ۔جلد 10 صفحہ 412-411) يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً۔فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔(الفجر: 28 تا 31) اے نفس خدا کے ساتھ آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی۔پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری بہشت کے اندر آجا۔۔۔۔یاد رکھنا چاہیئے کہ اعلیٰ درجہ کی روحانی حالت انسان کی اس دنیوی زندگی میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ آرام پا جائے اور تمام اطمینان اور سرور اور لذت اس کی خدا میں ہی ہو جائے۔یہی وہ حالت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں بہشتی زندگی کہا جاتا ہے۔اس حالت میں انسان اپنے کامل صدق اور صفا اور وفا کے بدلہ میں ایک نقد بہشت پالیتا ہے اور دوسرے لوگوں کی بہشت موعود پر نظر ہوتی ہے اور یہ بہشت موجود میں داخل ہوتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔رخ۔جلد 10 صفحہ 378) حقیقت نعماء جنت بِاكْوَابٍ وَّابَارِيْقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَّعِينٍ لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنْزِفُونَ۔(الواقعة : 20-19) اور شراب صافی کے پیالے جو آب زلال کی طرح مصفی ہوں گے بہشتیوں کو دئے جائیں گے۔وہ شراب ان سب عیبوں سے پاک ہوگی کہ دردسر پیدا کرے یا بیہوشی اور بدمستی اس سے طاری ہو۔ظاہر ہے کہ وہ بہشتی شراب دنیا کی شرابوں سے کچھ مناسبت اور مشابہت نہیں رکھتی بلکہ وہ اپنی تمام صفات میں ان شرابوں سے مبائن اور مخالف ہے اور کسی جگہ قرآن شریف میں یہ نہیں بتلایا گیا کہ وہ دنیوی شرابوں کی طرح انگور سے یا قند سیاہ اور کیکر کے چھلکوں سے یا ایسا ہی کسی اور دنیوی مادہ سے بنائی جائے گی بلکہ بار بار کلام الہی میں یہی بیان ہوا کہ اصل تخم اس شراب کا محبت اور معرفت الہی ہے جس کو دنیا سے ہی بندہ مومن ساتھ لے جاتا ہے اور یہ بات کہ وہ روحانی امر کیونکر شراب کے طور پر نظر آ جائے گا یہ خدائے تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے جو عارفوں پر مکاشفات کے ذریعہ سے کھلتا ہے اور عقلمند لوگ دوسری علامات و آثار سے اس کی حقیقت تک پہنچتے ہیں۔سرمه چشم آریہ - ر-خ- جلد 2 صفحہ 157-156 ) وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ۔(الرحمن: 47 ) اپنے وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ۔۔۔هِيَ الْمَأوى۔(النزعات 42-41) یعنی جو شخصا - پروردگار سے ڈر کر تزکیہ نفس کرے اور ماسوائے اللہ سے منہ پھیر کر خدائے تعالیٰ کی طرف رجوع لے آئے تو وہ جنت میں ہے اور جنت اس کی جگہ ہے یعنی خود ایک روحانی جنت باعث قوت ایمانی و حالت عرفانی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے جو اس کے ساتھ رہتی ہے اور وہ اس میں رہتا ہے۔(سرمہ چشم آریہ۔رخ۔جلد 2 صفحہ 143)