حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 533 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 533

533 مفتری کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی وَ قَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيْمَانَهُ اَ تَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَ كُمُ بِالْبَيِّنَتِ مِنْ رَّبِّكُمُ ، وَ اِنْ يَّكَ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ، وَ إِنْ يَكُ صَادِقًا و يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ ط إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ۔(المومن: 29) خدا تعالیٰ ایک مفتری کی پیشگوئی کہ جو ایک جھوٹے دعوی کے لئے بطور شاہد صدق بیان کی گئی ہرگز سچی نہیں کر سکتا۔وجہ یہ کہ اس میں خلق اللہ کو دھو کہ لگتا ہے جیسا کہ جل شانہ خود مدعی صادق کے لئے یہ علامت قرار دے کر فرماتا ہے وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمُ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُم۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُشرِق كَذَّاب سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں جو شخص اپنے دعوی میں کا ذب ہو اس کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔آئینہ کمالات اسلام -ر-خ-جلد 5 صفحہ 323) مفتری کی پیشگوئی اس پر ہی پڑتی ہے جو کام نفاق طبعی اور دنیا کی گندی زندگی کے ساتھ ہوں گے وہ خود ہی اس زہر سے ہلاک ہو جائیں گے۔کیا کا ذب کبھی کامیاب ہو سکتا ہے؟ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِق كَذَّابٌ (المومن: 29) - کذاب کی ہلاکت کے واسطے اس کا کذب ہی کافی ہے۔لیکن جو کام اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے رسول کی برکات کے اظہار اور ثبوت کے لئے ہوں اور خود اللہ تعالیٰ کے اپنے ہی ہاتھ کا لگا ہوا پودا ہو۔پھر اس کی حفاظت تو خود فر شتے کرتے ہیں۔کون ہے؟ جو اس کو تلف کر سکے؟ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 473-472) وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ ط عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَ اللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔(التوبه : 98) غلام دستگیر قصوری کے بارے میں ذکر تھا۔حضور نے فرمایا :۔بطریق تنزل ہم مان لیتے ہیں کہ اس نے صرف ہمارے لیے بددعا کی مگر اب بتاؤ کہ اس کی بددعا کا اثر کیا ہوا؟ کیا وہ الفاظ جو میرے حق میں کہے اور وہ دعا جو میرے برخلاف کی الٹی اس پر ہی نہیں پڑی ؟ اب بتلاؤ کہ کیا مقبولان الہی کا یہی نشان ہے کہ جود عاوہ نہایت تضرع و ابتہال سے کریں اس کا الٹا اثر ہو اور اثر بھی یہ کہ خود ہی ہلاک ہو کر اپنے کاذب ہونے پر مہر لگا جاویں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 200)