حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 522 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 522

522 الہام اور یقین اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ۔(البقرة: 258) (البقرة:258) یا درکھو کہ گناہ سے پاک ہونا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔فرشتوں کی سی زندگی بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں دنیا کی بے جا عیاشیوں کو ترک کرنا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لینا اور خدا کی طرف ایک خارق عادت کشش سے کھینچے جانا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔زمین کو چھوڑنا اور آسمان پر چڑھ جانا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔خدا سے پورے طور پر ڈرنا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنا اور اپنے عمل کو ریا کاری کی ملونی سے پاک کر دینا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ایسا ہی دنیا کی دولت اور حشمت اور اسکی کیمیا پر لعنت بھیجنا اور بادشاہوں کے قرب سے بے پروا ہو جانا اور صرف خدا کو اپنا ایک خزانہ سمجھنا بجز یقین کے ہرگز ممکن نہیں۔اب جتلا ؤ اے مسلمان کہلانے والو کہ ظلمات شک سے نوریقین کی طرف تم کیونکر پہنچ سکتے ہو یقین کا ذریعہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ (البقرة:258) کا مصداق ہے۔( نزول المسیح - ر - خ - جلد 18 صفحہ 470-469) گر میسر نمی شود دیدار زیں سبب هست حاجت گفتار اسی واسطے الہام کی ضرورت ہے کیونکہ خدا تعالے ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔شہادت آیات کے یقین میشود که هست آں ذات کلام و بغیر کلام اور نشانات کی گواہی کے کس طرح یقین آئے کہ وہ ذات موجود ہے۔بے یقین کے ہمی شود دل پاک مُرده چون سر بر مرده چون سر بر آرد از ته خاک بغیر یقین کے دل بھی کب پاک ہو سکتا ہے خاک کے نیچے سے مردہ کیونکر سر اٹھا سکتا ہے۔گر یقیں نیست نیز ایمان نیست زہد و صدق و ثبات و عرفان نیست اگر یقین نہیں تو ایمان بھی نہیں اس طرح بغیر یقین کے زہد۔صدق۔استقلال اور عرفان بھی حاصل نہیں ہوتا۔جو یقین مشکل ست صدق و ثبات سخت دشوار ترک منهيات بغیر یقین کے وفاداری اور استقامت مشکل ہے اور گناہوں کا ترک کرنا بھی سخت دشوار ہے۔زیں سبب خلق شد چو مُرداری سر نہی گشت از سر یارے اسی وجہ سے خلقت مردار کی طرح ہوگئی اور یار کی محبت سے دل خالی ہو گیا۔( نزول مسیح - ر- خ - جلد 18 صفحہ 476( درشین فارسی متر جم صفحه 327-326)