حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 462
462 وَ إِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ۔(فاطر:25) ہمارے اصول کی رو سے وہ ( اللہ تعالیٰ ) رب العالمین ہے اور اس نے اناج ہوا پانی روشنی وغیرہ سامان تمام مخلوق کے واسطے بنائے ہیں۔اسی طرح سے وہ ہر ایک زمانہ میں ہر ایک قوم کی اصلاح کے واسطے وقتا فوقتا مصلح بھیجتارہا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ہے وَ اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِیر خدا تعالیٰ ) تمام دنیا کا خدا ہے کسی خاص قوم سے اس کا کوئی رشتہ نہیں۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 619) اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔اسلام کا خدا حی و قیوم خدا ہے پھر وہ مردوں سے پیار کیوں کرنے لگا۔وہ حی و قیوم خدا تو بار بار مردوں کو جلاتا ہے يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الروم:20) تو کیا مردوں کے ساتھ تعلق پیدا کرا کر جلاتا ہے۔نہیں۔ہرگز نہیں۔اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی کی و قیوم خدا نے إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر: 10) کہہ کر اٹھایا ہوا ہے۔پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مر دوں کو جلاتا ہے۔یادر کھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں پھر فرمایا ثُمَّ فُصِّلَتْ۔ایک تو وہ تفصیل ہے جو قرآن کریم میں ہے۔دوسری یہ کہ قرآن کریم کے معارف و حقائق کے اظہار کا سلسلہ قیامت تک دراز کیا گیا ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 346) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔۔۔۔اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو یہ دعا کیوں سکھلائی گئی۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 104 حاشیہ ) إِنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔۔۔۔۔الاخر (القدر : 2 تا 6) اس ارحم الراحمین کی یوں عادت ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال تک پہنچ جاتی ہے اور خط تاریکی کا اپنے انتہائی نقطہ پر جا ٹھہرتا ہے یعنی اس غایت درجہ پر جس کا نام باطنی طور پر لیلتہ القدر ہے تب خدا وند تعالیٰ رات کے وقت میں کہ جس کی ظلمت باطنی ظلمت سے مشابہ ہے عالم ظلمانی کی طرف توجہ فرماتا ہے اور اس کے اذن خاص سے ملائکہ اور روح القدس زمین پر اترتے ہیں اور خلق اللہ کی اصلاح کے لئے خدائے تعالیٰ کا نبی ظہور فرماتا ہے تب وہ نبی آسمانی نور پا کر خلق اللہ کو ظلمت سے باہر نکالتا ہے اور جب تک وہ نور اپنے کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور اسی قانون کے مطابق وہ اولیاء بھی پیدا ہوتے ہیں کہ جو ارشاد اور ہدایت خلق کے لئے بھیجے جاتے ہیں کیونکہ وہ انبیاء کے وارث ہیں سوان کے نقش قدم پر چلائے جاتے ہیں۔اب جاننا چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ نے اس بات کو بڑے پر زور الفاظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے کہ دنیا کی حالت میں قدیم سے ایک مدوجزر واقع ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے تُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَ تُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ (ال عمران : 28) یعنی اے خدا کبھی تو رات کو دن میں اور کبھی دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی ضلالت کے غلبہ پر ہدایت اور ہدایت کے غلبہ پر ضلالت کو پیدا کرتا ہے۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 645-644)