حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 20
20 20 کیونکہ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس روز اس کی پاک کتاب کا جلوہ ظاہر ہو۔میں نے عالم کشف میں اس کے متعلق دیکھا کہ میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا اور اس ہاتھ کے چھونے سے اس محل میں سے ایک نور ساطعہ نکل جوار دگر د پھیل گیا اور میرے ہاتھوں پر بھی اس کی روشنی ہوئی۔تب ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا۔وہ بلند آواز سے بولا کہ اللہ اکبر۔خربت خیبر۔اس کی یہ تعبیر ہے کہ اس محل سے میرا دل مراد ہے جو جائے نزول وحلول انوار ہے اور وہ نور قرآنی معارف ہیں۔اور خیبر سے مراد تمام خراب مذہب ہیں جن میں شرک اور باطل کی ملونی ہے اور انسان کو خدا کی جگہ دی گئی یا خدا کی صفات کو اپنے کامل محل سے نیچے گرادیا ہے۔سو مجھے جتلایا گیا کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ کھل جائیگا اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائے گی جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کرے پھر میں اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے یہ الہام ہوا۔ان الله معك ان الله يقوم اينما قمت۔یعنی خدا تیرے ساتھ ہے خداو میں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو۔یہ حمایت الہی کیلئے ایک استعارہ ہے۔تریاق القلوب - رخ جلد 15 صفحہ 227-226) اے کان دلربائی دانم که از کجائی تو نور آں خدائی کیں خلق آفریده اے کان محسن میں جانتا ہوں کہ تو کس سے تعلق رکھتی ہے تو تو اس خدا کا نور ہے جس نے یہ مخلوقات پیدا کی میلم نماند باکس محبوب من توئی بس ذیرا کہ زاں فغاں رس نورت بما رسیده مجھے کسی سے تعلق نہ رہا اب تو ہی میرا محبوب ہے کیونکہ اس خدائے فریاد رس کی طرف سے تیرا نور ہم کو پہنچا ہے (براہین احمدیہ - رخ جلد 1 صفحہ 305 حاشیہ نمبر 2) رَأَيْتُ اَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرِينِى كِتَابًا وَيَقُولُ هَذَا تَفْسِيرُ الْقُرْآنِ اَنَا اَلَفْتُهُ وَ أَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أَعْطِيَكَ فَبَسطتُ إِلَيْهِ يَدَى وَاَخَزَتْهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى وَيَسْمَعُ وَلَا يَتَكَلَّمُ وَكَأَنَّهُ حَزِينٌ لِأَجَلِ بَعْضِ أَحْزَانِى۔وَرَايَتُهُ فَإِذَا الْوَجْهُ هُوَ الوَجُهُ الَّذِى رَأَيْتُ مِنْ قَبْلُ آنَارَتِ الْبَيْتُ مِنْ نُّورِه۔فَسُبْحَانَ اللهِ خَالِقِ النُّورِ وَ النُّوْرَانِيَيْنَ» غمگین ترجمہ از مرتب : میں نے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ مجھے ایک کتاب دکھاتے اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن کی تفسیر ہے جس کو میں نے تالیف کیا ہے اور مجھے خدا نے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو دوں۔تب میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے لے لیا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے اور سن رہے تھے مگر آپ بولتے نہیں تھے۔گویا آپ میرے بعض عموں کی وجہ سے عمد تھے۔اور میں نے جب آپ کو دیکھا تو آپ کا وہی چہرہ تھا جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔آپ کے نور سے گھر روشن ہو گیا۔پس پاک ہے وہ خدا جونو ر اور نورانی وجودوں کا خالق ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 550)