حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 19 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 19

19 پانچویں فصل وحی الہی کے اعتبار سے حضرت اقدس کے دل کو کشوف والہام سے روشن کیا گیا يَا أَحْمَدُ بَارَكَ الله فيكَ۔الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أُنْذِرَ ابَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبْيْنَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ۔قُلْ إِنِّى أمرُتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بَالْهُدَى وَدِينِ اربعین۔رخ جلد 17 صفحہ 351) الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ۔ترجمہ: اے احمد ! خدا نے تجھ میں برکت ڈالی۔اس نے تجھے قرآن سکھایا تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تا کہ مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ کون کون مجرم ہے۔کہہ دے کہ میرے پر خدا کا حکم نازل ہوا ہے اور میں تمام مومنوں سے پہلا ہوں۔وہ خدا جس نے اپنے فرستادہ کو بھیجا اس نے دوامر کے ساتھ اسے بھیجا ہے۔ایک تو یہ کہ اس کو نعمت ہدایت سے مشرف فرمایا ہے یعنی اپنی راہ کی شناخت کیلئے روحانی آنکھیں اس کو عطا کی ہیں اور علم لدنی سے ممتاز فرمایا ہے اور کشف اور الہام سے اس کے دل کو روشن کیا ہے۔اور اس طرح پر الہی معرفت اور محبت اور عبادت کا جو اس پر حق تھا اس حق کی بجا آوری کیلئے آپ اس کی تائید کی ہے اور اس لئے اس کا نام مہدی رکھا۔دوسرا امر جس کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے وہ دین الحق کے ساتھ روحانی بیماریوں کو اچھا کرنا ہے۔یعنی شریعت کے صدہا مشکلات اور معضلات حل کر کے دلوں سے شبہات کو دور کرنا ہے۔پس اس لحاظ سے اس کا نام عیسی رکھا ہے یعنی بیماروں کو چنگا کرنے والا۔الہامات و کشوف حضرت اقدس يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيْكَ۔مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أُنْذِرَ آبَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ 0 یعنی اے احمد ! خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی۔جو کچھ تو نے چلایا تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔وہ خدا ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے حقیقی معنوں پر تجھے اطلاع دی تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔اور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے اور تیرے انکار کی وجہ سے ان پر حجت پوری ہو جائے۔ان لوگوں کو کہدے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں اور میں وہ ہوں جو سب سے پہلے ایمان لایا۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 66) الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أُنْذِرَ آبَاؤُهُمْ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلَ الْمُجْرِمِيْنَ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ۔اس الہام کے رو سے خدا نے مجھے علوم قرآنی عطا کئے ہیں۔اور میرا نام اول المومنین رکھا۔اور مجھے سمندر کی طرح معارف اور حقائق سے بھر دیا ہے اور مجھے بار بار الہام دیا ہے کہ اس زمانہ میں کوئی معرفت الہی اور کوئی محبت الہی تیری معرفت اور محبت کے برابر نہیں۔پس بخدا میں کشتی کے میدان میں کھڑا ہوں۔جو شخص مجھے قبول نہیں کرتا۔عنقریب وہ مرنے کے بعد شرمندہ ہو گا۔اور اب حجتہ اللہ کے نیچے ہے۔اے عزیز کوئی کام دنیا کا ہو یا دین کا بغیر لیاقت کے نہیں ہوسکتا۔ضرورت الامام - رخ جلد 13 صفحه 502)