حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 438 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 438

پندرہویں فصل 438 موازنہ قرآن وحدیث حضرت اقدس کے الہام کشوف ورویاء الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآن لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ۔تذکرہ الشہا دتین۔۔۔خ۔جلد 20 صفحہ 6) تمام خیر قرآن میں ہے۔اس کے حقائق معارف تک وہ لوگ پہنچتے ہیں جو پاک کئے جاتے ہیں۔پس تم اس کے بعد یعنی اس کو چھوڑ کر کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي نَبْتَلِيْهِ بِذُرِّيَّةٍ فَاسِقَةٍ مُلْحِدَةٍ يَمِيلُونَ إِلَى الدُّنْيَا وَ لَا يَعْبُدُونَنِي شَيْئًا۔جو شخص قرآن سے کنارہ کرے گا ہم اس کو ایک خبیث اولاد کے ساتھ مبتلا کریں گے۔جن کی ملحدانہ زندگی ہوگی۔وہ دنیا پر گریں گے۔اور میری پرستش سے ان کو کچھ بھی حصہ نہ ہوگا۔یعنی ایسی اولاد کا انجام بد ہو گا۔اور تو بہ اور تقویٰ نصیب نہیں ہوگا۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 213 حاشیہ ) ييَحْيَى خُذِ الْكِتَبَ بِقُوَّةٍ وَّاتَيْنَهُ الْحُكْمَ صِبِيًّا۔(مريم :13) حضرت اقدس نے اپنا ایک پرانا الہام سنایا ییخیلی خُذِ الْكِتَبَ بِقُوَّةٍ (اور فرمایا) وَ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي القُرانِ۔اور فرمایا کہ اس میں ہم کو حضرت بیٹی کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ حضرت بیٹی کو یہود کی ان اقوام سے مقابلہ کرنا پڑا تھا جو کتاب اللہ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہورہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے۔ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہل حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 203) آج رات مجھے رویا میں دکھایا گیا۔کہ ایک درخت باردار اور نہایت لطیف اور خوبصورت پھلوں سے لدا ہوا ہے۔اور کچھ جماعت تکلف اور زور سے ایک بوٹی کو اس پر چڑھانا چاہتی ہے۔جس کی جڑ نہیں۔بلکہ چڑھا رکھی ہے۔وہ بوٹی افتیموں کی مانند ہے۔اور جیسے جیسے وہ بوٹی اس درخت پر چڑھتی ہے۔اس کے پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔اور اس لطیف درخت میں ایک کھجو ہٹ اور بدشکلی پیدا ہورہی ہے۔اور جن پھلوں کی اس درخت سے توقع کی جاتی ہے ان کے ضائع ہونے کا سخت اندیشہ ہے۔بلکہ کچھ ضائع ہو چکے ہیں۔تب میرا دل اس بات کو دیکھ کر گھبرایا اور پکھل گیا۔اور میں نے ایک شخص کو جو ایک نیک اور پاک انسان کی صورت پر کھڑا تھا پو چھا کہ یہ درخت کیا ہے اور یہ بوٹی کیسی ہے۔جس نے ایسے لطیف درخت کو شکنجہ میں دبا رکھا ہے؟ تب اس نے جواب میں مجھے یہ کہا۔کہ یہ درخت قرآن خدا کا کلام ہے اور یہ بوٹی وہ احادیث اور اقوال وغیرہ ہیں جو قرآن کے مخالف ہیں یا مخالف ٹھہرائی جاتی ہیں۔اور ان کی کثرت نے اس درخت کو دبا لیا ہے اور اس کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔تب میری آنکھ کھل گئی۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی-رخ- جلد 19 صفحہ 212 /حاشیہ )