حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 17
17 اگر ہم مخالفت قرآن اور حدیث کے وقت میں قرآن کو دستاویز نہ پکڑیں تو گویا ہماری یہ مرضی ہوگی کہ جس شرف کا ہم کو وعدہ دیا گیا ہے اس شرف سے محروم رہیں۔اور پھر فرماتا ہے۔وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَئًا فَهُوَ لَه قَرِيْن ـ (الزخرف:37) یعنی جو شخص قرآن سے اعراض کرے اور جو اس کے صریح مخالف ہے، اس کی طرف مائل ہو ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں کہ ہر وقت اسکے دل میں وساوس ڈالتا ہے اور حق سے اسکو پھیرتا ہے ار نابینائی کو اسکی نظر میں آراستہ کرتا ہے اور ایک دم اس سے جدا نہیں ہوتا۔اب اگر ہم کسی ایسی حدیث کو قبول کر لیں جو صریح قرآن کی مخالف ہے تو گویا ہم چاہتے ہیں کہ شیطان ہمارا دن رات کا رفیق ہو جائے اور اپنے وساوس میں ہمیں گرفتار کرے اور ہم پر نابینائی طاری ہو۔اور ہم حق سے بے نصیب رہ جائیں۔(الحق مباحثہ لدھیانہ۔۔جلدیہ صفحہ 37) اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے تو فیق تا وہ کچھ کریں سوچ و بچار ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے بعد اس کے ظن غالب کو میں کرتے اختیار براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 147) سچا خدا وہی ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے اور وہ واحد ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور افعال میں اور قدرتوں میں اور اس تک پہنچنے کے لیے تمام دروازے بند ہیں مگر ایک دروازہ جو فرقان مجید نے کھولا ہے۔اور تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گزر چکیں ان کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمدیہ اُن سب پر مشتمل اور حاوی ہے اور بجز اس کے سب راہیں بند ہیں۔تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں۔نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں۔اس لئے اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہیے تھا کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لیے ایک انجام بھی ہے لیکن یہ نبوت محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے۔اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔مگر اس کا کامل پیر وصرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کا ملہ نامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آسکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی ہتک نہیں بلکہ اس نبوت کی چمک اس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے۔نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلا نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا! حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے چشمه اصفی نکلا الہی! تیرا فرقان ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو (رسالہ الوصیت۔رخ جلد 20 صفحہ 311) سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ( براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 305)