حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 419
419 قرآن کریم کی ترتیب بیان کا لحاظ نہ رکھنا تحریف قرآن ہے ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ صحابہ کرام اور سلف صالح کی یہی عادت تھی کہ جب کہیں آیت اور حدیث میں تعارض و تخالف پاتے تو حدیث کی تاویل کی طرف مشغول ہوتے۔مگر اب یہ ایسا زمانہ آیا ہے کہ قرآن کریم سے حدیثیں زیادہ پیاری ہو گئیں ہیں اور حدیثوں کے الفاظ قرآن کریم کے الفاظ کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھے گئے ہیں۔ادنی ادنی بات میں جب کسی حدیث کا قرآن کریں سے تعارض دیکھتے ہیں تو حدیث کی طرف ذرہ شک نہیں گذرتا یہودیوں کی طرح قرآن کریم کا بدلا نا شروع کر دیتے ہیں اور کلمات اللہ کو ان کے اصل مواضع سے پھیر کر کہیں کا کہیں لگا دیتے ہیں اور بعضے فقرے اپنی طرف سے بھی ملا دیتے ہیں اور اپنے تئیں يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ موَاضِعه (النساء: 47) کا مصداق بنا کر اس لعنتہ اللہ سے حصہ لے لیتے ہیں جو پہلے اس سے یہودیوں پر انہیں کاموں کی وجہ سے وارد و نازل ہوئی تھی۔بعض تحریف کی یہ صورت اختیار کرتے ہیں کہ فقرہ متوفیک کو مقدم ہی رکھتے ہیں مگر بعد اس کے انی محییک کا فقرہ اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں۔ذرہ خیال نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ نے تحریف کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے اور بخاری نے اپنی صحیح کے آخر میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کی تحریف یہی تھی کہ وہ پڑھنے میں کتاب اللہ کے کلمات کو ان کے مواضع سے پھیرتے تھے ( اور حق بات یہ ہے کہ وہ دونوں قسم کی تحریف تحریری و تقریری کرتے تھے ) مسلمانوں نے ایک قسم میں ( جو تقریری تحریف ہے ) ان سے مشابہت پیدا کر لی۔اور اگر وعدہ صادق إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُوْنَ (الحجر: 10) تصرف تحریری سے مانع نہ ہوتا تو کیا تعجب کہ یہ لوگ رفتہ رفتہ تحریر میں بھی ایسی تحریفیں شروع کر دیتے کہ فقرہ رافعک کومقدم اور انی متوفیک کو مؤخرلکھ دیتے۔اور اگر ان سے پوچھا جائے کہ تم پر ایسی مصیبت کیا آپڑی ہے کہ تم کتاب اللہ کے زیروزبر اور محرف کرنے کی فکر میں لگ گئے تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ تا کسی طرح قرآن کریم ان حدیثوں کے مطابق ہو جاوے جن سے بظاہر معارض و مخالف معلوم ہوتا ہے۔(ازالہ اوہام -رخ- جلد 3 صفحہ 611)