حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 413 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 413

413 قرآن کریم کے بیان میں ایک ترتیب ہے یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت کیا باعتبار ترتیب مضامین کیا باعتبار تعلیم کیا باعتبار کمالات تعلیم کیا باعتبارات ثمرات تعلیم۔غرض جس پہلو سے دیکھو اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی، بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی ہے۔یعنی جس پہلو سے چاہو مقابلہ کرو۔خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت، خواه بلحاظ مطالب و مقاصد خواہ بلی ذاتعلیم، خواہ بلحاظ پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہیں۔غرض کسی رنگ میں دیکھو یہ معجزہ ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 27-26) پھر دیکھو کہ تقویٰ ایسی اعلیٰ درجہ کی ضروری شے قرار دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی علت غائی اسی کو ٹھہرایا ہے چنانچہ دوسری سورۃ کو جب شروع کیا ہے۔تو یوں ہی فرمایا ہے : السم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى للْمُتَّقِينَ (البقره 3-2) میرا مذ ہب یہی ہے کہ قرآن کریم کی یہ ترتیب بڑا مرتبہ رکھتی ہے خدا تعالیٰ نے اس میں علل اربعہ کا ذکر فرمایا ہے۔علت فاعلی مادی صوری غائی۔ہر ایک چیز کے ساتھ یہ چار ہی عمل ہوتی ہیں۔قرآن کریم نہایت اکمل طور پر ان کو دکھاتا ہے۔الم اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بہت جاننے والا ہے۔اس کلام کو حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے۔یعنی خدا اس کا فاعل ہے۔ذلک الکتب یہ مادہ بتایا۔یا یہ کہو کہ یہ علت مادی ہے۔علت صوری لا رَيْبَ فِيْهِ ہر ایک چیز میں شک وشبہ اور ظنون فاسدہ پیدا ہو سکتے ہیں۔مگر قرآن کریم ایسی کتاب ہے کہ اس میں کوئی ریب نہیں ہے۔لاریب اسی کے لیے ہے۔اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی شان یہ بتائی ہے کہ لَا رَيْبَ فِيْهِ۔( ملفوظات جلد اول صفحه 282 وَالطَّيِّبَتُ لِلطَّيبين (النور : 27) خدا کے کلام کو اس طرح پر بے نقط سمجھنا چاہیئے کہ وہ لغوا اور جھوٹ اور بیہودہ گوئی کے نقطوں سے منزہ اور معرا ہے اور اس کی فصاحت بلاغت وہ بے بہا جو ہر ہے جس سے دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے۔روحانی بیماریوں سے شفا حاصل ہوتی ہے۔حقائق اور دقائق کا جاناحق کے طالبوں پر آسان ہوتا ہے۔کیونکہ خدا کا فصیح کلام معارف حقہ کو کمال ایجاز سے کمال ترتیب سے کمال صفائی اور خوش بیانی سے لکھتا ہے اور وہ طریق اختیار کرتا ہے جس سے دلوں پر اعلیٰ درجہ کا اثر پڑے اور تھوڑی عبارت میں وہ علوم الہیہ سما جائیں جن پر دنیا کی ابتدا سے کسی کتاب یا دفتر نے احاطہ نہیں کیا۔یہی حقیقی فصاحت بلاغت ہے جو تکمیل نفس انسانی کے لئے مدومعاون ہے جس کے ذریعہ سے حق کے طالب کمال مطلوب تک پہنچتے ہیں۔اور یہی وہ صفت ربانی ہے جس کا انجام پذیر ہونا بجز الہی طاقت اور اس کے علم وسیع کے ممکن نہیں۔خدائے تعالیٰ اپنے کلام کے ایک ایک فقرہ کی سچائی کا ذمہ دار ہے اور جو کچھ اسکی تقریر میں واقعہ ہے۔خواہ وہ اخبارا اور آثار گذشتہ میں خواہ وہ آئندہ کی خبریں اور پیشگوئیاں ہیں اور خواہ وہ علمی اور دینی صداقتیں ہیں۔وہ تمام کذب اور ہزل اور بیہودہ گوئی کے داغ سے منزہ ہیں۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 466-463 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)