حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 412 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 412

412 تمہارے پاس آ گیا اب اگر تم ظلم سے باز نہ آئے تو ضرور پکڑے جاؤ گے اور اس مقام سے ثابت ہوا کہ خدا کے نزدیک مغضوب علیہم سے وہ یہودی مراد ہیں جنہوں نے عیسی کے معاملہ میں نا انصافی کی اور اسکو کافر کہا اور اس کو ستایا اور قرآن میں اس کی زبان پر لعنت کیے گئے۔اور اسی طرح تم میں سے وہ جو سیح آخرالزمان کی تکفیر اور زبان سے اس کی تکذیب اور ایذا اور اسکے قتل کی آرزو کی وجہ سے ان یہودیوں سے مشابہہ ہو گئے۔اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں جو عیسی علیہ السلام کے بارہ میں حد سے گذر گئے اور کہا کہ مسیح ہی خدا ہے اور وہ تین میں سے ایک ہے ایسا کہ دونوں اس کے وجود میں موجود ہیں اور انعمت علیہم سے وہ انبیا اور بنی اسرائیل کے آخری برگزیدے مراد ہیں جنہوں نے مسیح کی تصدیق کی اور اس کے بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور باتوں سے اس مسیح کے حق میں زیادتی نہیں کی اور اسی طرح مراد لفظ انعمت علیہم سے عیسی مسیح ہے جس پر وہ سلسلہ ختم ہوا اور اس کے وجود سے فیض کا چشمہ بند ہو گیا گویا کہ اسکا وجو د اس انتقال کے لئے ایک نشانی یا حشر اور قیامت تھا اور اسی طرح انعمت علیہم سے مراد اس امت کے ابدالوں کا سلسلہ مراد ہے جنہوں نے مسیح آخرالزمان کی تصدیق کی اور صدق دل سے اس کو قبول کیا یعنی اس مسیح کو جس پر یہ سلسلہ ختم ہوا اور انعمت علیہم سے وہی مقصود اعظم ہے کیونکہ مقابلہ اس کا مقتضی ہے اور تدبر کرنے والے اسکا انکار نہیں کر سکتے ( اور پھر جب اس بات کا قطعی یقینی صراحت اور تعیین کے ساتھ علم ہو گیا کہ ) مغضوب علیہم وہی یہودی ہیں جنہوں نے مسیح کو کا فرکہا اور اس کو ملعون جانا جیسا کہ الضالین کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے اس لئے ترتیب ٹھیک نہیں بیٹھتی اور قرآن کے کلام کا نظام درست نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ انعمت علیہم سے آخر زمانہ کا مسیح مراد لیا جائے کیونکہ قرآن شریف کی عادت ہے کہ مقابلہ کی رعایت رکھتا ہے اور مقابلہ کی رعایت رکھنا اعلیٰ درجہ کی بلاغت اور حسن بیان میں داخل ہے اور جاہل کے سوا کوئی اس معنے سے انکار نہیں کرتا۔(خطبہ الہامیہ۔رخ جلد 16 صفحہ 190 تا 197) إِنَّ لَفْظَ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ قَدْ حَدَى لَفْظَ الصَّالِيْنَ اَعْنِيْ وَقَعَ ذَالِكَ بِحِذَاءِ هَذَا كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى الْمُبْصِرِيْنَ فَثَبَتَ بِالْقَطْعِ وَ الْيَقِيْنِ أَنَّ مَغْضُوْبَ عَلَيْهِمْ هُمُ الَّذِيْنَ فَرَّطُوْا فِي أَمْرِ عِيْسَى بِالتَّكْفِيْرِ وَالْإِيْدَاءِ وَالتَّوْهِيْنِ كَمَا أَنَّ الصَّالِيْنَ هُمُ الَّذِيْنَ اَفْرَطُوْا فِي أَمْرِهِ بِاتِّخَاذِهِ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ۔(خطبة الهامية۔ر۔خ جلد 16 صفحه 192 193 حاشیه) ترجمہ: - لفظ مغضوب علیہم ضالین کے لفظ کے مقابل میں ہے۔یعنی وہ لفظ اس لفظ کے مقابل پڑا ہے جیسا کہ دیکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں پس قطع اور یقین سے ثابت ہو گیا کہ مغضوب علیہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کے بارے میں تفریط کی اور کافر قرار دیا اور دکھ دیا اور اہانت کی اور ضالین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کے بارے میں افراط کیا اور ان کو خدا قرار دیدیا۔