حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 395
395 جو علوم قرآن لیکر آیا ہے وہ دنیا کی کسی کتاب میں نہیں كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ (ال عمران: 111) اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان نبی مبعوث فرمایا جس کی امت کو حسنتم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کہا کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو۔کیونکہ وہ لوگ جن کو شریعت قصہ کے رنگ میں ملی تھی وہ دماغی علوم کی کتاب و شریعت کے ماننے والوں کے کب برابر ہو سکتے ہیں پہلے صرف قصص پر راضی ہو گئے۔اور ان کے دماغ اس قابل نہ تھے کہ حقایق و معارف کو سمجھ سکتے مگر اس امت کے دماغ اعلیٰ درجہ کے تھے اسی لیے شریعت اور کتاب علوم کا خزانہ ہے۔جو علوم قران مجید لیکر آیا ہے وہ دنیا کی کسی کتاب میں پائے نہیں جاتے اور جیسے شریعت کے نزول کے وقت وہ اعلیٰ درجہ کے حقایق و معارف سے لبریز تھی ویسے ہی ضروری تھی ترقی علوم و فنون سب اسی زمانہ میں ہوتا بلکہ کمال انسانیت بھی اسی میں پورا ہوا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 664) غور کی نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ بیضہ بشریت کے روحانی بچے جو روح القدس کی معرفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کی برکت سے پیدا ہوئے وہ اپنی کمیت اور کیفیت اور صورت اور نوع اور حالت میں تمام انبیاء کے بچوں سے اتم اور اکمل ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے جواللہ جل شانہ فرماتا ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ یعنی تم سب امتوں سے بہتر ہو جو لوگوں کی اصلاح کے لیے پیدا کیے گئے ہوا اور در حقیقت جس قدرقرآنی تعلیم کے کمالات خاصہ ہیں وہ اس امت مرحومہ کے استعدادی کمالات پر شاہد ہیں۔آئینہ کمالات اسلام۔رخ۔جلد 5 صفحہ 197) تمام انبیاء کے متفرق کمالات تھے اور متفرق طور پر ان پر فضل اور انعام ہوا۔اب اس امت کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ ان تمام متفرق کمالات کو مجھ سے طلب کرو۔پس ظاہر ہے کہ جب متفرق کمالات ایک جگہ جمع ہو جائیں گے تو وہ مجموعہ متفرق کی نسبت بہت بڑھ جائے گا اسی بنا پر کہا گیا کہ کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ یعنی تم اپنے کمالات کی رو سے سب امتوں سے بہتر ہو۔(چشمہ مسیحی - ر- خ- جلد 20 صفحہ 381-380)