حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 393 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 393

393 سو جیسے خدا نے آہستہ آہستہ امت کے اجتماع کو حج کے موقع پر کمال تک پہنچایا۔اول چھوٹے چھوٹے موقعے اجتماع کے مقرر کئے اور بعد میں تمام دنیا کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع دیا۔سو یہی سنت اللہ الہامی کتابوں میں ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ نوع انسان کی وحدت کا دائرہ کمال تک پہنچا دے۔اول تھوڑے تھوڑے ملکوں کے حصوں میں وحدت پیدا کرے اور پھر آخر میں حج کے اجتماع کی طرح سب کو ایک جگہ جمع کر دیوے جیسا کہ اس کا وعدہ قرآن شریف میں ہے وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا یعنی آخری زمانہ میں خدا اپنی آواز سے تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا جیسا کہ وہ ابتداء میں ایک مذہب پر جمع تھے تا کہ اول اور آخر میں مناسبت پیدا ہو جائے۔چشمہ معرفت - ر- خ- جلد 23 صفحہ 146-145) قرآن کریم پہلی کتابوں کا مصدق ہے حَدِيثًا يُفْتَرَى وَ لَكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيْلَ كُلَّ شَيْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ (يوسف: 112) قرآن ایسی کتاب نہیں کہ انسان اس کو بنا سکے بلکہ اس کے آثار صدق ظاہر ہیں کیونکہ وہ پہلی کتابوں کو سچا کرتا ہے یعنی کتب سابقہ انبیاء میں جو اس کے بارہ میں پیشین گوئیں موجود تھیں وہ اس کے ظہور سے بہ پایۂ صداقت پہنچ گئیں اور جن عقائد حقہ کے بارہ میں ان کتابوں میں دلائل واضح موجود نہ تھیں انکے قرآن نے دلائل بتلائے اور ان کی تعلیم کو مرتبہ کمال تک پہنچایا۔اس طور پر ان کتابوں کو سچا کیا جس سے خود سچائی اس کی ثابت ہوتی ہے۔دوسرے نشانِ صدق یہ کہ ہر یک صداقت دینی کو وہ بیان کرتا ہے اور تمام وہ امور بتلاتا ہے کہ جو ہدایت کامل پانے کے لئے ضروری ہیں۔اور یہ اس لئے نشانِ صدق ٹھہرا کہ انسان کی طاقت سے یہ بات باہر ہے کہ اس کا علم ایسا وسیع ومحیط ہو جس سے کوئی دینی صداقت وحقائق دقیقہ باہر نہ رہیں۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 226 حاشیہ نمبر 11) قرآن کریم کے مصدق ہونے کی حقیقت دوسرا سوال اس مضمون کا تھا کہ جو قرآن جو انجیلوں کا مصدق ہے تو کیا انا جیل صحیح ہیں؟ فرمایا کہ : مصدق کے معنے قرآنی طور پر یہ ہیں کہ جو کچھ بیچ تھا اس کی تو نقل کر دی اور جو نہیں لیاوہ غلط تھا پھر انجیلوں کا آپس میں اختلاف ہے اگر قرآن نے تصدیق کی ہے تو بتلاؤ کونسی انجیل کی کی ہے قرآن نے یو نامتی وغیرہ کی انجیل کی کہیں تصدیق نہیں کی۔ہاں پطرس کی دعا کی تصدیق کی ہے اسی طرح کونسی توریت کہیں جس کی تصدیق قرآن نے کی۔پہلے توریت تو ایک بتاؤ قرآن تو تمہاری توریت کو محرف بتلاتا ہے اور تم میں خود اختلاف ہے کہ توریت مختلف ہیں۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 425)