حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 321 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 321

321 فَتَعَلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهِ، وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔(طه: 115) انبیاء علیہم السلام ہمیشہ دعا میں لگے رہتے ہیں اور ہمیشہ زیادہ نور ما نگتے رہتے ہیں۔وہ کبھی اپنی روحانی ترقی پر سیر نہیں ہوتے اس لئے ہمیشہ استغفار میں لگے رہتے ہیں کہ خدا ان کی ناقص حالت کو ڈھانچے اور پورا روشنی کا پیمانہ دے اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ اپنے نبی کو فرماتا ہے قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا یعنی ہمیشہ علم کے لئے دعا کرتارہ کیونکہ جیسا خدا بے حد ہے ایسا ہی اس کا علم بھی بے حد ہے۔(ریویو آف ریلی چند جلد 2 نمبر 6 صفحہ 244) انبیاء کے علم میں بھی تدریجا ترقی ہوتی ہے اس واسطے قرآن شریف میں آیا ہے قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 456) وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَهُ تَرْتِيْلاً۔(الفرقان: 33) کافر کہتے ہیں کہ کیوں قرآن ایک مرتبہ ہی نازل نہ ہوا۔ایسا ہی چاہئے تھا تا وقتا فوقتا ہم تیرے دل کو تسلی دیتے رہیں اور تا وہ معارف اور علوم جو وقت سے وابستہ ہیں اپنے وقت پر ہی ظاہر ہوں کیونکہ قبل از وقت کسی بات کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے سو اس مصلحت سے خدا نے قرآن شریف کو تئیس برس تک نازل کیا تا اس مدت تک موعود نشان بھی ظاہر ہو جائیں۔انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذ الرحمن کہلاتے ہیں۔ان کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن شریف میں آیا ہے گذلِكَ لِنتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَهُ تَرْتِيلا۔پس میں اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کی حالت کیسی ہوتی ہے۔جس دن نبی مامور ہوتا (حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 357) ہے اس دن اور اس کی نبوت کے آخری دن میں ہزاروں کوس کا فرق ہو جاتا ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 246) أَلَمْ تَرَ إِلَى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظَّلَّ وَ لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلاً۔ثُمَّ قَبَضْهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيْرًا۔وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا - (الفرقان: 46 تا 48) فرمایا کہ ہم تاریکی کو روشنی کے ذریعہ سے تھوڑا تھوڑا دور کرتے جاتے ہیں تا اندھیرے میں بیٹھنے والے اس روشنی سے آہستہ آہستہ منتفع ہو جائیں اور جو یک دفعی انتقال میں حیرت و وحشت متصور ہے وہ بھی نہ ہو سو اسی طرح جب دنیا پر روحانی تاریکی طاری ہوتی ہے تو خلقت کو روشنی سے منتفع کرنے کے لئے اور نیز روشنی اور تاریکی میں جو فرق ہے وہ فرق ظاہر کرنے کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے آفتاب صداقت نکلتا ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ دنیا پر طلوع کرتا جاتا ہے۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 657-656)