حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 318
318 قرآن کی قراءت دیگر (مختلفه ) دوسری قرآت حدیث صحیح کا حکم رکھتی ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ اللهِ ، وَ اللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (الحج: 53) پوچھا گیا کہ قرآن کا جونزول ہوا ہے وہ یہی الفاظ ہیں یا کس طرح؟ فرمایا:۔یہی الفاظ ہیں اور یہی خدا کی طرف سے نازل ہوا۔قرآت کا اختلاف الگ امر ہے مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَّلَا نَبِي میں لا مُحَدَّث قرات شاذہ ہے اور یہ قرآت صحیح حدیث کا حکم رکھتی ہے جس طرح نبی اور رسول کی وحی محفوظ ہوتی ہے اسی طرح محدث کی وحی بھی محفوظ ہوتی ہے جیسا کہ اس آیت سے پایا جاتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 449) وَ إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ۔( سورة النساء : 160) اور یا درکھنا چاہیئے کہ جبکہ آیت قَبلَ مَوْتِہ کی دوسری قرآت قَبْلَ مَوْتِهِمْ موجود ہے جو بموجب اصول محمد ثین کے حکم صحیح حدیث کا رکھتی ہے یعنی ایسی حدیث جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو اس صورت میں محض ابو ہریرہ کا اپنا قول رد کرنے کے لائق ہے کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مقابل پر پیچ اور لغو ہے اور اس پر اصرار کرنا کفر تک پہنچا سکتا ہے اور پھر صرف اسی قدر نہیں بلکہ ابو ہریرہ کے قول سے قرآن شریف کا باطل لازم آتا ہے کیونکہ قرآن شریف تو جابجا فرماتا ہے کہ یہود و نصاری قیامت تک رہیں گے انکا بکلی استیصال نہیں ہو گا۔اور ابو ہریرہ کہتا ہے کہ یہود کا استیصال بکلی ہو جائے گا اور یہ سراسر مخالف قرآن شریف ہے۔جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہیئے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ایک ردی متاع کی طرح پھینک دے بلکہ چونکہ قرآت ثانی حسب اصول محدثین حدیث صحیح کا حکم رکھتی ہے اور اس جگہ آیت قبل موتہ کی دوسری قرأت قبل موتہم موجود ہے جس کو حدیث صحیح سمجھنا چاہیئے۔اس صورت میں ابو ہریرہ کا قول قرآن اور حدیث دونوں کے مخالف ہے فلاشک انه باطل و من تبعه فانه مفسد بطال۔براہین احمدیہ حصہ پنجم رخ جلد 21 صفحہ 410)