حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 194
194 مثیل انبیاء علیہم السلام ہونے کے اعتبار سے اس وقت میں امت موسوی کی طرح جو مامور اور مسجد دین آئے ان کا نام نبی نہ رکھا گیا تو اس میں یہ حکمت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ختم نبوت میں فرق نہ آوے ( جس کا مفصل ذکر قبل ازیں گذر چکا ہے ) اور اگر کوئی نبی نہ آتا تو پھر مماثلت میں فرق آتا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدم۔ابراہیم۔نوح اور موسیٰ وغیرہ میرے نام رکھے حتی کہ آخر کار جَرِيُّ اللهِ فِي حُلَلِ الانْبِيَاءِ کہا۔گویا اس سے سب اعتراض رفع ہو گئے اور آپ کی امت میں ایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسیٰ کے تمام خلفاء کا جامع تھا۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 255) انبیاء کرچه بوده اند بسے من بعرفاں نہ کمترم زکسے اگر چہ انبیاء بہت ہوئے ہیں۔مگر میں معرفت الہی میں کسی سے کم نہیں ہوں۔وارث مصطفیٰ شدم به یقیں شدہ رنگیں برنگ یار حسیں میں یقیناً مصطفے کا وارث ہوں اور اس حسین محبوب کے رنگ میں رنگین ہوں۔آدمم نیز احمد مختار در برم جامیہ ہمہ ابرار میں آدم بھی ہوں اور احمد مختار بھی میرے جسم پر تمام ابرار کے خلعت ہیں۔زنده شد ہر نبی بآمدنم ہر رسولے نہاں پیر منم ہر نبی میرے آنے سے زندہ ہو گیا اور ہر رسول میرے پیرہن میں پوشیدہ ہے۔آنچه داداست ہر نبی راجام داد آن جام را مرا بتمام جو جام اس نے ہر نبی کو عطا کیا تھا وہی جام اس نے کامل طور سے مجھے بھی دیا ہے۔درشین فاری متر جم صفحه 334-335) ( نزول مسیح ر - خ جلد 18 صفحہ 477) مترجم ) نزول رخ میں کبھی آدم کبھی موسی کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم“ ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار در مشین اردو ) ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 106)