حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 176 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 176

176 ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو دکھ دینگے اور اس دعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورة تبت یدا ابی لھب ہے (3) تیسری دعا ولا الضالین ہے اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ اخلاص ہے یعنی قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد اور اس کے بعد دو اور سورتیں جو ہیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورۃ تبت اور سورۃ اخلاص کیلئے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جب کہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 217 218) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے پایا جاتا ہے کہ جب انسانی کوششیں تھک رہ جاتی ہیں تو آخر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔دعا کامل تب ہوتی ہے کہ ہر قسم کی خیر کی جامع ہو اور ہر شر سے بچاوے پس اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں ساری خیر جمع ہیں اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ میں سب شروں حتی کہ دجالی فتنہ سے بچنے کی دعا ہے۔مغضوب سے بالا تفاق یہودی اور الضالین سے نصاری مراد ہیں اب اگر اس میں کوئی رمز اور حقیقت نہ تھی تو اس دعا کی تعلیم سے کیا غرض تھی ؟ اور پھر ایسی تاکید کہ اس دعا کے بدوں نماز ہی نہیں ہوتی۔اور ہر رکعت میں اس کا پڑھا جانا ضروری قرار دیا بھید اس میں یہی تھا کہ یہ ہمارے زمانہ کی طرف ایما ہے۔اس وقت صراط مستقیم یہی ہے جو ہماری راہ ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 397 396 )