حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 121 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 121

121 سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں اور مسیح موعود علیہ السلام سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھلائی گئی ہیں (1) ایک یہ دعا کہ خدا تعالیٰ اس جماعت میں داخل رکھے جو صحابہ کی جماعت ہے اور پھر اس کے بعد اس جماعت میں داخل رکھے جو مسیح موعود کی جماعت ہے جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُو بهم (الجمعه: 4) غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں منعم میھم کی جماعتیں ہیں اور انہی کی طرف اشارہ ہے آیت صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دو ہی ہیں۔ایک صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت۔دوسری و آخرین منہم کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ بیچ موعود کی جماعت ہے۔پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعا پڑھو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو دل میں یہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت طلب کرتا ہوں۔یہ تو سورۃ فاتحہ کی پہلی دعا ہے۔(2) دوسری دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو سیح موعود کودکھ دیں گے اور اس دعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورة تَبْتُ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ہے (3) تیسری دعا وَلَا الضَّالِین ہے۔اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ اخلاص ہے یعنی قُلْ هُوَ الله اَحَدٌ اَللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَد اور اس کے بعد دو اور سورتیں جو ہیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورۃ تنبت اور سورۃ اخلاص کے لئے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جب کہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی پس سورۃ فاتحہ میں ان تینوں دعاؤں کی تعلیم بطور براعت الاستملال ہے یعنی وہ اہم مقصد جو قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورۃ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورۃ مثبت اور سورۃ اخلاص اور سورۃ فلق اور سورۃ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالی کی پناہ مانگی گئی ہے۔پس افتتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں سے ہوا۔اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔: اور یا در ہے کہ ان دونوں فتنوں کا قرآن شریف میں مفصل بیان ہے اور سورۃ فاتحہ اور آخری سورتوں میں اجمالاً ذکر ہے۔مثلاً سورۃ فاتحہ میں دعا وَلَا الضَّالین میں صرف دو لفظ میں سمجھایا گیا ہے کہ عیسائیت کے فتنہ سے بچنے کے لئے دعا مانگتے رہو جس سے سمجھا جاتا ہے کہ کوئی فتنہ عظیم الشان در پیش ہے جس کے لیے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ نماز کے پنچ وقت میں یہ دعا شامل کر دی گئی اور یہاں تک تاکید کی گئی کہ اس کے بغیر نماز ہو نہیں سکتی جیسا کہ حدیث لا صَلوةَ إِلَّا بِالْفَاتِحَةِ سے ظاہر ہوتا ہے۔سواب یہ وہی فتنہ کا زمانہ ہے جس میں تم آج ہو۔تیرہ سو برس کی پیشگوئی جو سورۃ فاتحہ میں تھی آج تم میں اور تمہارے ملک میں پوری ہوئی اور اس فتنہ کی جڑ مشرق ہی نکلا اور جیسا کہ اس فتنہ کا ذکر قرآن کے ابتدا میں فرمایا گیا ایسا ہی قرآن شریف کے انتہا میں بھی ذکر فرمایا تا یہ امر موکت ہو کر دلوں میں بیٹھ جائے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 220-217) ضالین پر اس سورۃ کو ختم کیا ہے یعنی ساتویں آیت پر جو ضالین کے لفظ پر ختم ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضالین پر قیامت آئے گی۔یہ سورۃ در حقیقت بڑے دقائق اور حقائق کی جامع ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں اور اس سورۃ کی یہ دعا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِين به صاف اشارہ کر رہی ہے کہ اس امت کے لئے ایک آنے والے گروہ مغضوب میھم کے ظہور سے اور دوسرے گروہ ضالین کے غلبہ کے زمانہ میں ایک سخت ابتلا در پیش ہے جس سے بچنے کیلئے پانچ وقت دعا کرنی چاہیئے۔تحفہ گولڑویہ - ر - خ - جلد 17 صفحہ 284-285 حاشیہ)