حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 115
115 دوسری فصل أم الكتاب سورۃ الفاتحہ میں حضرت اقدس کا ذکر اے دوستو جو پڑھتے ہو اُمّ الکتاب کو اب دیکھو میری آنکھوں سے اس آفتاب کو سوچو دُعاء فاتحہ کو پڑھ کے بار بار کرتی ہے یہ تمام حقیقت کو آشکار دیکھو خدا نے تم کو بتائی دعا یہی اُس کے حبیب نے بھی پڑھائی دعا یہی پڑھتے ہو پنج وقت اسی کو نماز میں جاتے ہو اس کی رہ سے درِ بے نیاز میں اسکی قسم کہ جس نے یہ سورۃ اُتاری ہے اُس پاک دل پہ جس کی وہ صورت پیاری ہے یہ میرے رب سے میرے لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعوی پہ مہر الہ ہے میرے لئے یہ شاہد رپ میرے مسیح ہونے پہ یہ اک دلیل ہے پھر میرے بعد اوروں کی ہے انتظار کیا جلیل ہے توبہ کرو کہ جینے کا ہے اعتبار کیا رین اردو نیا ایڈیشن صفحہ 44) (اعجاز مسیح رخ جلد 18 صفحہ 2) ترجمہ سورۃ الفاتحہ بیان فرمودہ حضرت اقدس علیہ السلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْن اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينِ أمِينَ ترجمہ۔خدا جس کا نام اللہ ہے تمام اقسام تعریفوں کا مستحق ہے اور ہر ایک تعریف اسی کی شان کے لائق ہے کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔وہ رحمان ہے۔وہ رحیم ہے۔وہ مالک یوم الدین ہے۔ہم (اے صفات کا ملہ والے ) تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور مددبھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور ان راہوں سے بچا جو ان لوگوں کی راہیں ہیں جن پر تیرا غضب طاعون وغیرہ عذابوں سے دنیا ہی میں وارد ہوا اور نیز ان لوگوں کی راہوں سے بچا کہ جن پر اگر چہ دنیا میں کوئی عذاب وارد نہیں ہوا۔مگر اُخروی نجات کی راہ سے وہ دور جا پڑے ہیں اور آخر عذاب میں گرفتار ہوں گے۔(ایام الصلح۔رخ جلد 14 صفحہ 246)